روزقیامت سےبچنےکیلئےیورپی سائنسدانوں نےعمارت بنا لی

Doomsday Seed PKG 24-10 Mukkaram [video width="640" height="360" mp4="http://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2015/10/Doomsday-Seed-PKG-24-10-Mukkaram.mp4"][/video] اوسلو : قیامت کب آئے گی، زمین پر سب کچھ تباہ ہوجائے گا تو انسان کیا کریں گے، ان سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں، تاہم یورپ کے کچھ سائنس دانوں نے روز قیامت کے لیے کچھ تیاری کی ہے۔ روایات کہتی ہیں کہ دس محرم کو صوراسرافیل پھونکا جائے گا اور پھر سب ختم ہوجائے گا، پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے، سمندر ابل پڑیں گے اور ہزاروں زلزلے آئیں گے۔ دنیا کے تمام مذاہب میں قیامت کا تصور موجود ہے، سائنس بھی مکمل طور پر قیامت کے تصور کو نہیں جھٹلاتی، روز قیامت کے دن جب سب ختم ہوجائے گا تو بچاؤ کی کيا کوئی صورت ہوگی۔ سائنس دانوں نے قطب شمالی سے تیرہ سو کلومیٹر دور ناروے کی سرحدی حدود میں برف کے اندر یہ بنکر تعمیر کیا ہے، دو ہزار چھ میں ناروے، فن لینڈ، ڈنمارک اور آئس لینڈ کے وزرائے اعظم نے گلوبل سیڈ والٹ کی بنیاد رکھی۔ پینتالیس ملین نارویجن کرون کی لاگت سے تعمیر ہونے والی تین سو نوے فٹ کی زیر زمین اس عمارت کے قیام کا مقصد دراصل قیامت آنے یا کسی بھی بڑے حادثے کی صورت میں دنيا کو غذائی بحران سے بچانا ہے۔ اس مقصد کے لیے یہاں کروڑوں کی تعداد میں مختلف اجناس کے بیجوں کو جمع کیا گیا ہے، عمارت کی تعمیر میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ کوئی سمندری طوفان یا زلزلہ اسے نقصان نہ پہنچا سکے، سائنس دانوں کی یہ کوشش انسانیت کو کیا فائدہ دے سکتی ہے، اس کا فیصلہ بھی شاید روز قیامت کو ہی ہوگا۔ سماء

DENMARK

DOOMSDAY

Bunker For Billionaires

Mount Pony

Survival Shelters

Underground Bunkers

Inside the Luxury

catastrophic

day of judgement

Tabool ads will show in this div