ملک بھرمیں55واں یوم دفاع روایتی جوش و جذبے سے منایاجارہاہے

دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے ہوا
فائل فوٹو

ملک بھر میں 55 واں یوم دفاع قومی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے۔ یوم دفاع پاکستان کے موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دن کا آغاز 31 ، جب کہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔

یوم دفاع کے موقع پر مساجد میں نماز فجر کے بعد ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ یوم دفاع پاکستان کے سلسلے میں تمام کنٹونمنٹس کے ساتھ مختلف شہروں میں پروقار اور کرونا وائرس کے باعث محدود تقاریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ آج کے دن 6 ستمبر 1965ء کی جنگ میں جام شہادت نوش کرنے اور نشان حیدر پانے والے شہداء کی یادگاروں پر پھول چڑھانے کے علاوہ قرآن خوانی، فاتحہ خوانی اور دعاؤں کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔

مراز قائد

کراچی میں مزار قائد پر تبدیلی گارڈ کی پرقار تقریب ہوئی، جہاں پی اے ایف اصغر خان اکیڈمی کے چاق و چوبند کیڈیٹس نے گارڈ کے فرائض سنبھالے۔ یہ خوبصورت دستہ 3 خواتین کیڈٹس 46 کیڈٹس پر مشتمل تھا۔ گارڈز کی تبدیلی کی تقریب کے مہمان خصوصی ائیرآفیسر کمانڈنگ اصغر خان اکیڈمی ایئر وائس مارشل شکیل غضنفر ستارہ امتیاز (ملٹری) تھے۔ اس موقع پر 4 کیڈٹس نے مزار کے اندر اور 4 کیڈٹس نے مزار کے باہر فرائض سنبھالیں۔

مزار اقبال

لاہور میں علامہ محمد اقبالؒ کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب ہوئی۔ ڈی جی رینجرز میجر جنرل عامر مجید نے مزار اقبال پر حاضری دی۔ رینجرز ہیڈکوارٹرز میں بھی خصوصی تقریبات ہوئیں۔ میجر شبیر شریف شہید (نشان حیدر)، میجر عزیزبھٹی شہید (نشان حیدر) سمیت دیگر شہداء کی آخری آرام گاہوں پر بھی خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

اسلام آباد نیول ہیڈکواٹرز

اسلام آباد میں نیول ہیڈکوارٹرز میں یوم دفاع کے حوالے سے خصوصی تقریب ہوئی، جہاں یادگار شہدا پر چادر چڑھائی گئی۔ چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی مہمان خصوصی تھے۔ تقریب میں پاک بحریہ کے آفیسرز، سیلرز اور شہدا کے اہل خانہ شریک ہوئے۔ ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے یادگار شہدا پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ جس کے بعد چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے شہدا کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔

ستمبر 65 کی جنگ، بھارت یاد ہے نا؟

اس 17 روزہ جنگ میں عوام اور فوج نے مل کر ہر محاذ پر کم وسائل کے باوجود بڑے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے، پاک فوج نے 1 ہزار 617 مربع میل علاقے پر قبضہ کيا، جب کہ پاک فضائیہ نے بھارت کے 110 جنگی طيارے اور 165 کے بدلے ميں 475 ٹینک تباہ کر ڈالے تھے۔ اس جنگ میں بھارت کو ساڑھے 9 ہزار لاشیں اٹھانا پڑی تھيں۔ جنگ کے دوران بھارتی فوجی کئی ٹینک، جیپیں اور جنگی ساز و سامان چھوڑ بھاگ گئے تھے، جو آج بھی پاکستان کے عجائب خانوں میں دنیا کو بھارت کی حقیقت اور جنگ کا نتیجہ بتا رہے ہیں۔

پاکستان پر حملے میں پہل کرنے والا بھارت 17 دن میں ہی ہمت ہار گیا اور جنگ بند کرانے کی دہائی لے کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پہنچ گیا، جس کے بعد ذمہ دار ریاست ہونے کے ناطے پاکستان نے معاہدہ کرکے جنگ ختم کردی تھی۔

6TH SEPTEMBER

Tabool ads will show in this div