اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو پیش ہونےکا حکم دیدیا

مریم نواز قافلے کی صورت میں عدالت جائینگی
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ عدالتی ریمارکس میں کہا گیا ہے کہ آج ہم نواز شریف کو مفرور قرار نہیں دے رہے۔ جسٹس عامر فاروق نے ريمارکس دئيے ایسی کوئی رپورٹ نہیں آئی کہ نواز شریف اسپتال میں داخل ہیں۔ نواز شريف کے پاس خود کو قانون کے حوالے کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر سماعت کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا عدالت میں رش ہے، کسی کو کرونا ہوگیا تو کون ذمہ دار ہے ؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا مجھے عدالت پہنچنے میں بہت مشکلات ہوئیں۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی میرٹ پر ضمانت منظور ہوئی، نواز شریف علاج کیلئے بیرون ملک گئے، واپس نہ آنے کی وجوہات درخواست میں لکھی ہیں۔

جسٹس عامر نے ریمارکس دیئے کہ ایک کیس میں نواز شریف کو 8 ہفتوں کی ضمانت دی گئی تھی۔ کیا نواز شریف اب بھی ضمانت پر ہیں؟۔ خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف اب ضمانت پر نہیں ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا ضمانت ختم ہونے کے بعد نواز شریف کو عدالت میں سرنڈر نہیں کرنا چاہیے تھا ؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا نواز شریف کا کیس منفرد ہے، عدالت سرنڈر نہ کرنے پر تفصیلی آگاہ کروں گا، نواز شریف کو جو بیماریاں تھیں اس کا علاج پاکستان میں نہیں۔

جسٹس عامر نے دوبارہ پوچھا کہ نواز شریف ضمانت پر نہیں ہیں تو کیا سرنڈر کر رہے ہیں؟، جس پر ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف اس وقت سرنڈر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ عام حالات ہوتے تو نواز شریف سرنڈر کرتے یا پنجاب حکومت کا فیصلہ چیلنج کرتے۔ میڈیکل بورڈ نے خود کہا تھا میاں صاحب کا یہاں علاج ممکن نہیں۔وفاقی حکومت نے بیرون ملک جانے پر7 ارب روپے کی ضمانت مانگی تھی۔ وفاقی حکومت کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔  سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ جب لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی تب نواز شریف کی ضمانت برقرار تھی۔ وفاقی حکومت کو ہمیں آگاہ کرنا چائیے تھا کہ انہوں نے کیا کوشش کی؟۔ جسٹس محسن نے کہا کہ پنجاب حکومت کا موقف ہمارے سامنے آچکا ہے۔ اگر وفاقی حکومت کا بھی وہی موقف ہے تو ہمیں کارروائی کرنا ہوگی۔ اگر نہیں تو معاملہ الگ ہوگا، اگر وہ اسپتال میں ہیں تو بات الگ ہے،  کیا اس وقت نواز شریف اسپتال میں ہیں؟۔

جسٹس عامر فاورق نے مزید کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ اس عدالت کے سزا معطلی والے فیصلے پر حاوی نہیں ہوسکتا۔ لاہور ہائی کورٹ نے اجازت دی یانہیں اُس کاہم سے تعلق نہیں۔ اپیلیں یہاں زیر سماعت ہیں۔ سزا معطلی اور ضمانت کا معاملہ یہیں طے ہونا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج ہم نواز شریف کو مفرورڈیکلئیر نہیں کر رہے۔ ہم نواز شریف کو سرنڈر کرنے کیلئے ایک موقع دے رہے ہیں۔ آئندہ سماعت تک نواز شریف سرنڈرنہیں کرتے تو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی ہوگی۔ ہم یہ فیصلہ محفوظ کر رہے ہیں۔ اپنے فیصلے میں نواز شریف کو سرنڈر کرنے کی تاریخ دیں گے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ اس کا تو یہی مطلب ہے کہ آپ نواز شریف کو واپس آنے کا کہہ رہے ہیں۔ جس پر جسٹس عامر نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم نواز شریف کو یہ موقع بھی نہ دیں؟۔ اگر آپ کو واپسی پر ایئرپورٹ پر گرفتاری کا خطرہ ہے تو نیب کو روک دیتے ہیں۔ جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ آج سرنڈر کرنے کی تاریخ نہ دیں،آئندہ ہفتے سماعت رکھ لیں تب دے دیں۔ عدالت نے کہا کہ ہم اپنا تحریری حکم نامہ جاری کریں گے۔ تحریری حکم نامے میں بتائیں گے کہ کب سرنڈر کرنا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سرنڈر کرنے کی تاریخ سے متعلق فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت 10 ستمبر اور مریم نواز اور کیپٹن صفدرکی اپیلوں پر سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر نے سزا کالعدم قرار دینے کی اپیل دائر کر رکھی ہے۔

MARYAM NAWAZ

AVENFIELD

NAWAZ SHARIF. SURRENDER

Tabool ads will show in this div