قبرص کی شہریت برائے فروخت

مبینہ کرپٹ افراد اور اہلخانہ کو گولڈن پاسپورٹ بیچاگیا

قبرص کی حکومت کی جانب سے 2017ء سے 2019ء کے دوران مختلف ممالک کے درجنوں افراد اور ان کے اہل خانہ کو شہریت فروخت کرنے کی انکشاف ہوا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لیک ہونے والی خفیہ دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ قبرص کی حکومت نے کئی ممالک کے منتخب سیاستدانوں اور ریاستی کاروباری اداروں کے بورڈ ممبرز اور ان کے اہل خانہ کو گولڈن پاسپورٹ کے نام سے اپنی شہریت فروخت کی، اس مقصد کیلئے فی فرد سے 25 لاکھ امریکی ڈالرز وصول کئے گئے۔

ایسے افراد یا ان کے رشتہ داروں کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جو حکومتوں میں کوئی عہدہ رکھتے تھے اور ان پر کرپشن میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

قبل ازیں الجزیرہ نے 23 اگست کو یہ خبر بھی دی تھی کہ قبرص نے سزا یافتہ اور مفرور افراد کو اپنی شہریت فروخت کی ہے، اس خبر کے بعد قبرص کی وزارت داخلہ کی جانب سے بیان جاری ہوا تھا کہ اس اطلاع کا جائزہ لیا جارہا ہے تاہم حکومت نے حالیہ برسوں میں اپنی انویسٹمنٹ پالیسی میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔

قبرص کی شہریت حاصل کرنیوالوں میں افغانستان کے ایوان زیریں کے اسپیکر میر رحمان رحمانی بھی شامل ہیں جنہوں نے خود اپنے علاوہ اپنی اہلیہ اور 3 صاحبزادیوں کیلئے بھی شہریت خریدی۔ رحمانی ایک سابق جنرل ہیں اور انہوں نے افغان حکومت اور امریکی فوج کے مابین ایندھن کے ٹھیکوں کے ذریعے کامیاب کاروبار کیا۔

لبنان کے سابق وزیراعظم کے بھائی نے بھی قبرص کا گولڈن پاسپورٹ حاصل کیا۔ علاوہ ازیں یہ سہولت ویتنامی کانگریس کے رکن فام فو کاک اور ایک روسی شہری ایگور ریوا نے بھی حاصل کی۔

کرپشن کیخلاف کام کرنیوالی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی سینئر پالیسی افسر لو بریو کا کہنا ہے کہ رحمانی، کاک اور ریوا جیسے افراد کلیدی عہدوں پر فائز اور فیصلہ سازی کا اختیار رکھتے تھے، ان کی پبلک فنڈز تک رسائی بھی تھی اس لحاظ سے اس بات کا خدشہ انہوں نے کرپشن کی اور دوسروں کو بھی کرپٹ کیا۔

اتنی بھاری رقم ادا کرکے شہریت حاصل کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانیہ کے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ اف اسٹریٹیجک افیئرز کے سینئر فیلو نائجل گولڈ ڈیوس کا کہنا ہے کہ کئی ممالک میں بے تحاشہ دولت کا حصول صرف ناجائز ذرائع سے ہی ممکن ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے افسران و افراد کا دوہری شہریت حاصل کرنے کا مقصد سالہا سال کے دوران بنائے گئے اپنے اثاثوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔

قبرص کا پاسپوٹ ہولڈر ہونا اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ اس سے یورپی یونین ممالک میں آزادانہ سفر، کام اور بینکاری کی جاسکتی ہے۔ یورپی یونین نے قبرص کے اس پروگرام کو ایک سیکیورٹی رسک تصور کرتے ہوئے اس پر کئی مرتبہ تنقید بھی کی ہے۔

یورپی یونین کا ماننا ہے کہ قبرص اس طرح شہریت فروخت کرنا ایسے ممالک جو بدامنی، دہشت گردی و دیگر مسائل کا شکار ہیں کے بااثر افراد کیلئے ای یو ممالک کیلئے چور دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔

یورپی یونین کے دباؤ کے باعث قبرص نے 2019ء میں قوانین میں کچھ تبدیلیاں کیں تاہم ان کے عمل میں لائے جانے سے قبل ہی کرپشن کے مرتکب افراد کی اچھی خاصی تعداد اس اسکیم سے مستفیض ہوچکی تھی۔

قبرص نے اب تک ایسے افراد کی شہریت منسوخ نہیں کی ہے تاہم وزیر داخلہ نیکوس نوریس کا کہنا ہے کہ ایک تین رکنی کمیٹی شہریت حاصل کرنیوالے افراد کی اسکروٹنی کررہی ہے۔

الجزیرہ آئندہ دنوں میں قبرص کی شہریت خریدنے والے افراد کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انکشاف کرے گا۔

EUROPEAN UNION

cyprus

Tabool ads will show in this div