ایس ای سی پی کےاین بی ایف سی رولز میں ترامیم

نان بینکنگ سیکٹر میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے
Aug 12, 2020

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے نان بینکنگ  فنانس کمپنیوں (اسٹیبلشمنٹ اینڈ ریگولیشن) رولز 2003 میں ترامیم کا مسودہ عوامی رائے عامہ کے لئے جاری کر دیا ہے۔  ترامیم کا مسودہ  کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود ہے اور شراکت داروں کی تجویز و آراء کی روشنی میں نئے قوائد کو حتمی شکل دی جائے گی۔

ملک میں نان بینکنگ شعبے کو فروغ دینے اورکمپنیوں کوکاروباری آسانیاں فراہم کرنےکےپیش نظر  ایس ای سی پی نےکمپنیوں کے لئے ہر3سال کےبعدلائسنس کی تجدید کی موجودہ شرط کی جگہ نان بینکنگ کمپنیوں کےلئےمستقل لائسنس متعارف کرانےکی تجویزپیش کی ہے۔

اس کےعلاوہ ایس نان بینکنگ کمپنیوں کوایک سےزائدلائسنس حاصل کرنےاورمختلف کاروباری سرگرمیاں کرنےکی اجازت دینے کی تجویز بھی دی ہے۔ مزید یہ کہ  قرض دینے والی این بی ایف سی کو نجی ایکویٹی اور وینچرکیپٹل (پی ای اینڈ وی سی)لائسنس حاصل کرنا ہوگا جبکہ انوسٹمنٹ ایڈوائزر (سرمایہ کاری مشیر) کوایکسچینج ٹریڈڈ فنڈزاورلسٹڈ اجتماعی سرمایہ کاری اسکیموں کے انتظام و انضرام کرنے کی اجازت ہوگی۔

نئی نان بینکنگ  کمپنیوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کے لئے  این بی ایف سی  کو تشکیل دینےاور متعلقہ این بی ایف سی لائسنس  کے حصول کے طریقہ کار کو بھی سہل بنا دیا گیا ہے۔

این بھی ایف سی رولز میں ترامیم کے ذریعے نان بینکنگ کمپنیوں کے اسپانسرز اورشئیرہولڈروں سے متعلق شقوں کوبھی متوازن بنانےکی تجویزدی گئی ہے۔اس حوالےسےتجویزدی گئی ہے کہ کمپنی کے پہلے پروموٹرز ہی کمپنی کے اسپانسرز تصور ہوں گے جبکہ کمپنی کے اسپانسرزکی جگہ لینے والے افراد اور10فیصد سےکم شئیرز رکھنے والے افراد کوکمیشن سے منظوری لینے کی ضرورت نہیں    ہوگی۔ حصص کو مسدود کرنے کی ضرورت صرف اس صورت میں لاگو ہوگی جب کوئی شخص 10 فیصد یا اس سے زیادہ  شئیر ہولڈنگ  کا حامل ہوگا ۔

بین الاقوامی معیارات کے مطابق ایس ای سی پی کے ریگولیٹری سینڈ بکس کے ذریعے نان بینکنگ فنانس کمپنی کی جانب سے نئی جدید مالیاتی مصنوعات اور مالیاتی سروسز کا تجربہ کرنے لئے ضروری شقیں بھی متعارف کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔ این بی ایف سی رولز2003 میں ترمیم کا مقصد نان بینکنگ سیکٹر میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے ۔

Tabool ads will show in this div