مودی سرکار کا دہکتا انڈیا

شائننگ انڈیا کی جس چمک دمک کو پاکستانیوں نے دیکھا ہے ، دنیا میں شائد کسی اور نے نہیں دیکھا ، حالات سے تو یہی لگتا ہے کہ پاکستان دشمنی میں انڈیا دہک رہا ہے، پھر بھی عمومی طور پر یہاں قومی بیانیہ یہ ہی ہے کہ تمام مسائل کا حل بات چیت میں ہے مگر ایک فریق مسلسل ہٹ دھرمی پر مائل رہے تو دوسرے کے لیے کیا گنجائش رہ جاتی ہے۔

مصلحت اور بے غیرتی کا باریک سا فرق مٹتے دیر نہیں لگتی، تنگ آمد ، بجنگ آمد، سی این این نے حال ہی میں بتایا کہ بھارت بڑے گوشت کا دوسرا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے مگر وہاں کسی مسلمان کو صرف اس شہبے میں قتل کردینا جائز ہے کہ اس نے گائے کا گوشت کھایا ہے۔

بی جے پی کے رکن اسمبلی سکشی مہاراج کی سنئیں '' بھارت میں گائے ذبح کرنے والے کو سزائے موت دے دینی چاہیے''، کیا کہنے آپ کی سوچ کے اور آپ کو ووٹ دے کر منتخب کرنے والوں کے۔ پاکستان میں بھی انتہا پسند رویوں کے وجود سے انکار نہیں مگر اہم عہدوں پر فائز افراد میں توازن ابھی اتنا نہیں بگڑا۔

کالعدم حکیم اللہ محسود کے مربی منور حسن اور ممتاز قادری کے وکیل جسٹس (ر) خواجہ شریف استثنات میں شمار ہوتے ہیں ، سانحہ گوجرہ اور جوزف کالونی کے بعد قومی سطح پر ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنادی گئی اور متاثرین کو ملنے والا ریلیف نظر آرہا ہے۔ پاکستان میں عمومی طور پر سیاست و پارلیمان ان لغویات سے محفوظ ہیں، دوسری طرف ہندو بنیا اپنا اور اپنے دھرم کا احترام تو چاہتا ہے مگر عیسائیوں ، مسلمانوں ، سکھوں اور دلتوں کی تحقیر اس کےلیے معمول کا حصہ ہے۔ ریاستی تحفظ معلاملات کو مزید گھمبیر کررہا ہے۔

پاک بھارت دوستی کے حق میں لبرل طبقے کی قابل احترام رائے ان کا جمہوری حق ہے مگر ضرورت سے زیادہ جوش وخروش کا کیا مطلب ؟ دوسروں کو صرف اتنی عزت دینی چاہیے کہ آپ کی اپنی عزت بھی قائم رہے، عسکریت پسندی کی مذمت ضرور کی جائے مگر بلوچستان اور کراچی کی بدامنی میں بھارتی کردارکو یہ جواز مت بخشیں کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان بھی مداخلت کرتا رہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر برصغیرکی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے، مسلم اکثریت علاقے کو دھونس دھاندلی سے چھیننے پر پاکستان کا ردعمل فطری ہے اور پاکستان سے کچھ غلطیاں بھی ہوئی ہیں مگر بلوچستان کے کیس میں ایسی کوئی بات نہیں، نہ وہاں ہندو بستے ہیں اور نہ ہی اقوام متحدہ نے ان کو استصواب رائے کی قرارداد منظور کی ہے۔ بین الاقوامی برادری نے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کی کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر بھارتی میزبانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی جھلک میڈیا پر دیکھی، ممبئی میں پی سی بی کے چیئرمین شہریار خان کی بھارتی کرکٹ بورڈ حکام سے ملاقات کے دوران پیش آنے والا واقعہ بھی کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ تیس سے چالیس شیو سینا کے کارکن تمام تر سیکیورٹی حصار کو توڑ کر بورڈ کے دفتر تک پہنچ گئے اور کسی نے پوچھا تک نہیں، اس واقعہ میں بھی بھارتی پالیسی سازوں کا کاریگری واضح نظر آرہی ہے ، مقصد صرف یہ ہے کہ پاکستان کو یہ کہنے کا جواز پیدا کیا جائے کہ بھارتی عوام پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کے حق میں نہیں ، اس لیے ہم مجبور ہیں۔

حیرت انگیز بات ہے کہ بھارتی حکمران جماعت پاکستان کے خلاف سازشوں کے تانے بانے بننے میں اتنی مصروف ہے کہ اسے اپنے ملک کے کئی سنگین مسائل نظر نہیں آرہے، بین الاقوامی اداروں کے مطابق تقریباً نصف کے قریب آبادی کو ٹوائلٹ کی سہولت میسر نہیں ، خواتین کی آبروریزی کے زیادہ تر واقعات کھلے میں رفع حاجت کے دوران پیش آرہے ہیں، بچے ماؤں کی کوکھ میں ہی نحیف ہورہے ہیں کیونکہ ہندو دھرم انہیں گوشت اور انڈے کھانے نہیں دیتا۔

غور کرنے کی بات ہے کہ ایک ارب آبادی کا ملک آج تک ایک بھی جینوئن فاسٹ باولر پیدا نہیں کرسکا ، جو ہیں بھی تو وہ بھی مسلمان ہیں، انسانوں کیلئے گوشت کھانا کیوں ضروری ہے اور کیسے قانون قدرت کےمطابق ہے، ہندوؤں کے اجتماع کو تفصیلی جواب ڈاکٹر ذاکر نائیک دے چکے ہیں جو انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ دہلی، ممبئی اور کلکتہ جیسے میٹرو پولیٹن شہروں کی گندگی بھی مسلم دشمنی میں ہلکان ہونے والے بھارتی حکمرانوں کی نظروں سے اوجھل ہے، بھارت کے ان مسائل کی وجہ نہ تو پاکستان ہے اور نہ ہی مسلمان۔ پاکستانی قوم برصغیر میں امن چاہتی ہے مگر اقدامات دو طرفہ اور برابری کی بنیاد پر ہوں تو بات بنے گی ورنہ  سانحہ ء سمجھوتہ ایکسپریس میں ساٹھ سے زائد پاکستانی زندہ جلائے جائیں گے تو ممبئی حملوں جیسے واقعات بھی ہوں گے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ نیوٹن نے تقریباً سوا تین سو سال پہلے ہی بتادیا تھا کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے اور رد عمل کی شدت، عمل کے برابر ہوتی ہے، مودی سرکار کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سماء

GIRL

TALIBAN

EXTREMIST

MUSLIMS

ISLAM

women

RAPE CASE

#ShivSena

Tabool ads will show in this div