اسلام آباد:کاون ہاتھی کوکمبوڈیامنتقل کرنےکافیصلہ

انتظامات مکمل کئے جا رہے ہیں

اسلام آبادچڑیاگھر میں موجود کاون ہاتھی کوکمبوڈیا منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نےاسلام آباد ہائیکورٹ کو فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ ہاتھی کو منتقل کرنے کے لئے انتظامات مکمل کئے جا رہے ہیں۔سیکرٹری ماحولیات کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کو انتظامات سے آگاہ کردیا گیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں مرغزار چڑیا گھر کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ بتائیں کاون ہاتھی اور دیگر جانوروں کی منتقلی کے لئے کیا کیا گیا؟ ۔سیکریٹری ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ کاون کی بیرون ملک منتقلی کے لیے انتظامات مکمل کئے جانے ہیں،کاون کی منتقلی کے لئے شپنگ کا انتظام بھی کیا جانا ہے۔

وائلڈ لائف حکام نے عدالت کو بتایا کہ کاون کی منتقلی کیلئے نیپال،سری لنکا اور کمبوڈیا کے نام زیر غور تھے،کمبوڈیا منتقلی ہمیں آسان اور سستی پڑ رہی تھی،اس لئے کمبوڈیا کا نام فائنل کیا۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کاون کی منتقلی میں وقت کتنا لگے گا؟سیکریٹری ماحولیات نے بتایا کہ وزارتِ خارجہ سے ویزہ وغیرہ کی درخواست کررہے ہیں،ہمیں 4 ہفتوں کا وقت لگے گا اور ہاتھی کو کمبوڈیا منتقل کر دیا جائے گا۔

اسلام آباد:کاون ہاتھی کےمستقبل کےفیصلےکیلئےکمیٹی کی تشکیل

چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا کہ چڑیاگھر کےمگرمچھ بے چارے کا کیا بنا؟۔سیکریٹری ماحولیات نے بتایا کہ مگرمچھ کو آج چڑیا گھر سے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ مگرمچھ قدرتی طور پر تو سندھ میں کہیں ساحلی علاقوں پر ہونا چاہیئے،جانور اپنی قدرتی آب و ہوا میں ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی ریمارکس دئیے کہ اگرجانور ملتان جیسے علاقے میں پیدا ہو اور اسے الاسکا بھیج دیں توکیسے زندہ رہےگا۔

چیف جسسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان جانوروں کے حقوق کے معاملے میں دنیا پر فوقیت لے رہی ہے،انسان کی طاقت کمزور کو قید کرنا نہیں، اس کی حفاظت کرنا ہے۔

ISLAMABAD HIGH COURT

kawan

Tabool ads will show in this div