لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کرنا ہی پڑے گا، چیف جسٹس کا حکم

اسٹاف رپورٹ


کراچی : عدالتی حکم کے باوجود آئی جی ایف سی کے پیش نہ ہونے پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا ہے، چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایف سی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد آپ کے پاس ہیں، انہیں عدالت میں پیش کرنا ہی پڑے گا۔


سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں بلوچستان کے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران آئی جی ایف سی کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا، ایف سی کے وکیل نے بتایا کہ وقت کی کمی کے باعث وہ افسران تک عدالت کا حکم نہيں پہنچاسکے، چیف جسٹس نے کہا کہ آخر آپ لوگ چاہتے کيا ہيں، بتائيے توہين عدالت کا نوٹس کس کے خلاف جاری کريں۔


عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایف سی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ ہونے والے آپ ہی کے پاس ہیں، جس کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں، ڈی جی سی آئی ڈی بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ ايف سی کے 19 افسران و اہلکاروں سے لاپتہ افراد کے بارے ميں تحقيقات کرنی ہيں، ان ميں بريگيڈيئر اورنگزيب، کرنل نعيم، ميجر طاہر، صوبے دار مومن اور ديگر شامل ہيں، وکیل ایف سی بتایا کہ يہ افسران آرمی ميں واپس چلے گئے ہيں۔


عدالت نے حکم دیا کہ بلوچستان کے لاپتہ افراد کے کيس ميں ملوث ايف سی کے 19 افسران و اہلکاروں کو ڈی آئی جی سی آئی ڈی کے سامنے یکم دسمبر کو ہر صورت پيش کیا جائے۔


ملوث افراد میں جو لوگ آرمی میں تعینات ہیں انہیں بھی اسٹیشن کمانڈر کے ذریعے طلب کیا جائے، عدالت نے آئی جی سندھ کو بلوچستان کے لاپتہ افراد کے کیمپ کو سیکیورٹی بھی فراہم کرنے کا حکم دیا۔ سماء

میں

کا

MQM

چیف

کو

Economy

woes

fishing

Tabool ads will show in this div