این اے122ضمنی انتخاب،کس کی جیت،کس کی ہار ؟؟۔

PTI1 تحریر ظہیر احمد: لاہور :  این اے 122کا نتیجہ سب کے سامنے ہے جس کو دونوں جماعتیں اپنی اپنی کامیابی گردان رہی ہیں، حکومت کا کہنا ہے کہ جیت نے ثابت کر دیا کہ جنرل الیکشن کا نتیجہ بھی یہی تھا اور دھاندلی کے الزمات بے بنیاد تھے، جب کہ دوسری جانب تحریک انصاف صوبائی نشست پر فتح اور ایاز صادق کی کم ووٹوں سے کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھ رہی ہے، جو بھی ہے یہ نتیجہ جہاں کچھ حقائق سامنے لا یا ہے وہاں کچھ سوالات نے بھی جنم لیا ہے۔ ایک حقیقت تو یہ سامنے آئی کہ گزشتہ دو سالوں سے حکومت خود کو کارکردگی کے لحاظ سے بہترین حکومت سمجھ رہی تھی مگر جب الیکشن مہم شروع ہوئی تو حکومت کے پاس عوام کو بتانے کو کچھ نہیں تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ حکومت بتاتی کہ لوڈشیڈنگ واضح کمی آئی یہ بتاتی کہ اداروں کو بہتر کیا برآمدات میں اضافہ ہوا شرح خواندگی بڑھی، پولیس ،اسپتال اور تھانوں میں بہتری آئی مگر ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ حکومت نے خود کو ضرب عضب کی کامیابی میں چھپانے کی کوشیش کی، کون نہیں جانتا کہ ضرب عضب اگر شروع ہوا تو کس کی مر ضی سے ہوا ورنہ وزیراعظم  تودہشت گردوں سے مذاکرات کے حق میں تھے اور کس کو یاد نہیں کہ وہ اس سلسلے میں مدد لینے کے لیے اپنے سب سے بڑے حریف عمران خان کے گھر بھی گئے تھے اور کون بھول گیا جب وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں خطاب کیا ان دنوں راولپنڈی میں دھماکا ہوا تھا اور کافی جانی نقصان ہوا تھا سب توقع کر رہے تھے کہ نواز شریف آپریشن کا اعلان کریں گے مگر ہوا اس کے بالکل برعکس اور وہ جملہ آج بھی سب کو یاد ہو گا کہ امن کو ایک موقع اور ملنا چاہیے۔ اسی طرح کراچی آپریشن کو بھی الیکشن مہم کا حصہ بنایا گیااس کا کریڈ ٹ بھی پوری طرح حکومت کو نہیں جاتا،حکومت کی کامیا بی یہ ہوتی آج اگر نند ی پور پر جیکٹ کام کا رہا ہوتا، آج نیلم جہلم منصوبے پر سوالات نہ اٹھ رہے ہوتے اور گڈانی پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہوتااور حکومت الیکشن مہم میں فخر سے یہ سب بتاتی۔ آج محترمہ مر یم نواز کو محسن لطیف کی شکست پر اُسی کو ذمہ دار نہ ٹھہرانا پڑتا اور ایاز صادق نہ کہتے کہ میں نے حلقے کے لوگوں سے رابطہ نہیں رکھا۔ اس حکومت کا وطیرہ رہا ہے کہ جب جیت جاﺅ تو حلقے کا ایم این اے یا ایم پی اے بھی عوام سے رابطہ نہ رکھے اور جب مصیبت آجائے یعنی الیکشن کے دوران ملک کا وزیراعظم بھی گلیوں میں نظر آ تا ہے۔ وزیراعظم نے الیکشن مہم کے دوران عمران خان سے کہا کہ آ پ گالیاں بھی دیتے ہیں تو جواب میں دعا ہی نکلتی ہے۔ گالم گلو چ کو کسی بھی معا شرے میں برا ہی سمجھا جا تا ہے، مگر ہمیشہ کی طرح خود کو اخلاقیا ت کا چیمپئن سمجھنا اپنی باقی کوتاہیوں کو اخلا قیات میں چھپانا لوگوں کو بے وقو ف بنانے کی کو شش ہے۔ اپنے حریف کو اخلاقیات کا درس دینے سے پہلے خود اپنے ماضی کو یاد کرنا اپنے بھائی جو زرداری صاحب کو کیا کیا کچھ کہتے تھے، اخلاقیات سیکھانا یا رانا ثنا اللہ اور عابد شیر علی کی زبا ن کو مہذب بنانا زیادہ آ سان اور ضرو ری ہے، کیونکہ پا رٹی سر براہ کے اخلاق یا تربیت اس کے اپنے لوگوں میں پہلے نظر آنا چاہیے نہ کی حر یف میں اور ویسے بھی ایک آدمی کارکردگی کچھ نہ دکھائے کام کچھ نہ  کرے اور اخلا ق سے ہی پیش آ تا رہے تو اس کو کتنا بر داشت کیا جا سکتا ہے؟ اس نتیجے پر خو ش فہمی کا شکا ر ہو نے کے بجا ئے اگر حکومت اپنا  قبلہ درست کر لے تو حکومت کے لئے نعمت سے کم نہیں۔ اب آ تے ہیں ان سوالا ت کی طر ف جو نتیجے کے بعد سے ذہن میں منڈلا رہے ہیں۔ اگر دھاندلی نہیں ہو ئی تھی تو علیم خان ،عمران خان کے مقابلے میں بہت کم ما رجن سے کیوں ہارا؟؟ اگر علیم خان نے پیسے لگائے تو اس کو فتح کیوں نہیں ملی جبکہ شعیب صدیقی کو فتح نصیب ہوئی؟؟؟ حکو مت نے صوبائی نشست کیوں کھو دی حالانکہ صوبائی کارکردگی تو بقول حکومت سب سے اچھی ہے؟؟؟ اگر حلقے سے رابطہ نہ رکھنے پر محسن لطیف نے شکست کھائی تو ایاز صادق کیسے فتح یاب ہوگئے و ہ تو برملا اظہار کر چکے تھے کہ پارٹی کے لوگو ں سے رابطہ نہ رکھ پایا؟؟؟ اگر ووٹرز کے ووٹ دو سرے علا قوں میں منتقل کیے گئے تو کس بنیا د پر کیے گئے؟ اگر یہ مان بھی لیا جا ئے کہ کس کو معلوم جو ووٹ منتقل ہوئے کس جما عت کے تھے؟ تب بھی کیا ووٹر کو بغیر بتائے ووٹ منتقل کر نا قانونی طو ر پر ٹھیک ہے؟؟؟ اور عمران خان یا تحریک انصاف کو دھا ندلی کے الاپ سے باہر آنا چاہیے، کیونکہ عمران خا ن نے جو کچھ منوانا تھا وہ کسی حد تک منوا بھی لیا۔ اب وقت ضا ئع کئے بغیر پارلیمنٹ میں آنا چاہیے یہ پلیٹ فارم استعمال کر کے بڑے بڑے کام کر وائے جا سکتے ہیں ۔اول تو اب دھا ندلی کو ایک طر ف رکھ کر عوام کے دو سرے مسائل کو زیر بحث لانا ہو گا اداروں کی اصلا حات الیکشن کمیشن کی بہتر ی حکو متی کا رکر دگی پر مثبت تنقید کے ذریعے ہی عوام میں جگہ بنائی جاسکتی ہے اور رہ گیا الیکشن تو آج بھی "ن" لیگ کے مقابلے میں تحریک انصاف کو الیکشن لڑ نے کا ڈھنگ نہیں آ تا۔ آ نکھوں دیکھا حا ل ہے کی این اے 122 میں تحریک انصاف کے زیا دہ تر پو لنگ ایجنٹس لوکل نہیں تھے تو دو سر ے حلقوں سے بلائے گئے تھے جن کو اس حلقے کی زیا دہ معلومات بھی نہیں تھیں دو سر ی طر ف "ن" لیگ کے ایجنٹس راہ چلتے بندوں کو ووٹ ڈالنے پر مجبور کر رہے تھے۔ جبکہ تحریک انصاف کے کیمپ میں خود کوئی چل کر آ تا تھا تو ٹھیک ورنہ ٹھنڈا ماحول تھا۔ایک وو ٹر کو بتایا گیا کہ آپ کا ووٹ دو سر ے پو لنگ اسٹیشن میں ہے تو اس نے ووٹ ڈالنے کا پرو گرام ہی منسو خ کر دیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں جماعتیں اپنی غلطیوں سے کتنا سیکھتی ہیں؟؟

ECP

PTI

PUNJAB

by polls

AYAZ SADIQ

NA122

VOTER

Tabool ads will show in this div