قومی اسمبلی میں کے الیکٹرک پربحث، متحدہ کادھرنے کااعلان

کے الیکٹرک نیشنل گرڈسے اضافی بجلی نہیں لے سکتی، عمرایوب

قومی اسمبلی میں ’کے الیکٹرک پر کس کا اختیار‘ سے متعلق بحث چھڑ گئی۔ کراچی میں لوڈ شیڈنگ پر حکومت اور پیپلزپارٹی کے ارکان آمنے سامنے آگئے۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے یہ بھی واضح کردیا کہ کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے اضافی بجلی نہیں لے سکتی۔ ایم کیو ایم نے لوڈشیڈنگ کیخلاف پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کردیا۔

پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے قائد کے شہر کراچی کے شہریوں کو شدید گرمی میں بجلی سے محروم کرنیوالے ادارے کے الیکٹرک پر بحث نے قومی اسمبلی کا ماحول بھی گرما دیا۔

کراچی میں لوڈ شیڈنگ پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، کے الیکٹرک کی من مانیوں پر گرما گرم بحث ہوئی۔ وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ کے الیکٹرک کا مسئلہ آج کا نہیں سالوں پرانا ہے، کے الیکٹرک کو 650 میگاواٹ کے علاوہ 100 میگا واٹ اضافی بجلی دے رہے ہیں، نیشل گرڈ سے اضافی بجلی نہیں دی جاسکتی، کمپنی کے پاس اضافی بجلی لینے کی صلاحیت ہی نہیں، انہیں اپنے سسٹم کو درست بنانے کا کہا ہے۔

وفاقی وزیر نے کرنٹ لگنے سے پیش آنیوالے حادثات کا ذمہ دار سندھ حکومت کو قرار دے دیا۔

پی پی رکن آغا رفیع اللہ نے ایوان کی توجہ کراچی میں  لوڈشیڈنگ پر مبذول کرائی تو وفاقی وزیر اسد عمر میدان میں اتر آئے، معاملہ جلد حل کرانے کی یقین دہانی کرادی اور کہا کہ ہم یہ نہیں کہیں کہ کراچی ہمارا مسئلہ نہیں۔

سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے یہ مسئلہ اٹھایا لیکن کراچی کے بجلی بحران کو غلط رنگ دیا جارہا ہے، ہم پوچھ رہے ہیں کہ حل کیا ہے اور یہ ہمیں آئندہ 2 سال کا وقت دے رہے ہیں، اس سے بڑا مذاق کیا ہوسکتا ہے۔

اجلاس کے دوران متحدہ قومی موومنٹ نے ’کے الیکٹرک‘ کیخلاف منگل کو پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دینے کا اعلان بھی کردیا۔

PTI

NATIONAL ASSEMBLY

KE

Tabool ads will show in this div