پب جی گیم پرپابندی کا فیصلہ اسلام آبادہائیکورٹ میں چیلنج

الیکٹرانک اسپورٹس دنیاکی سب سےبڑی انڈسٹری ہے

پب جی گیم پر پابندی کا فیصلہ اسلام آبادہائیکورٹ میں چیلنج کردیاگیاہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست گزار نے موقف اپنايا کہ پب جی گیم آن لائن پیسے کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے،اسپانسر شپ ختم ہونے کا خدشہ ہے جس سے پاکستان کو بے حدمعاشی نقصان ہوگا۔

درخواست گزار نےکہا کہ پاکستان میں پب جی کا ٹورنامنٹ جیتا،10 جولائی کو ورلڈ لیگ میں شامل ہونا ہے،الیکٹرانک اسپورٹس دنیا کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے۔

 درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس پابندی سے پاکستان الیکٹرانک اسپورٹس میں بلیک لسٹ ہوسکتا ہے۔عدالت سےاستدعا کی گئی ہے کہ پی ٹی اے کی جانب سے پب جی گیم پر پابندی کا فیصلہ کالعدم کیا جائے۔ درخواست میں پی ٹی اے اور وفاقی سیکرٹریز کو فریق بنایا گیا ہے۔

پب جی گیم پرعارضی پابندی سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج

واضح رہے کہ گزشتہ روز وقارذکاء نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کی جانب سے آن لائن گیم پب جی پرعارضی پابندی کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔ وقارذکاء نے اپنی درخواست میں موقف اختیارکیا کہ پب جی دنیا بھرکے نوجوانوں کیلئے مقبول ، سستی اور آسانی سے دستیاب تفریحی سرگرمی ہے،بہت سے کھلاڑی اپنے گیم پلے کی ویڈیوزاپ لوڈ کرکے رقم بھی کماتے ہیں  جبکہ مسابقتی کھلاڑی بین الاقوامی گیمنگ مقابلوں میں حصہ لے کر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پب جی کے حوالے سے متعدد شکایات موصول ہونے کے بعد پی ٹی اے نے یکم جون کو یہ پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کھیل نشے جیسا، وقت کا ضیاع ہے اور بچوں کی جسمانی ونفسیاتی صحت پرشدید منفی اثرڈالتا ہے۔

PUBG

Tabool ads will show in this div