پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے 28پائلٹس کی ڈگریاں جعلی، 4پائلٹ فارغ

جعلی ڈگری والے پائلٹس کوشوکاز نوٹس جاری کردیئے، وفاقی وزیرہوابازی
Jun 26, 2020

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/06/GHULA-SARWAR-ON-CAA-2100-MONTAGE-KAZIM-26-06.mp4"][/video]

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ پی آئی اے سے 4 گھوسٹ پائلٹس کو فارغ کیا جاچکا، 28 پائلٹس کی ڈگریاں جعلی نکلیں، تحقیقات مکمل ہوگئیں، شوکاز نوٹس جاری کردیئے گئے، مشکوک لائسنس والے پائلٹس کی تعداد 262 ہوگئی، قومی ایئر لائنز کے 31 طیاروں کے فلیٹ کو 45 طیاروں تک لے کر جائیں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا کہ امید ہے پائلٹس یونین کسی کو بے جا سپورٹ نہیں کرے گی، انکوائری بورڈ نے امتحانی طریقۂ کار مزید شفاف بنانے کیلئے سفارشات دیں، نئے لوگوں کو آگے لائیں گے، پائلٹس کی کوئی کمی نہیں، مشکوک ڈگری پر پائلٹس کی معطلی سے کوئی کمی نہیں ہوگی، 2023ء تک پی آئی اے فلیٹ کو 31 سے 45 طیاروں تک بڑھائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے میں 4 گھوسٹ پائلٹس کو فارغ کیا جاچکا ہے، ان پائلٹس کیخلاف کرمنل ایکشن بھی ہوگا، مشکوک ڈگری والے پائلٹس کی معطلی کا فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی، 28 پائلٹس کی ڈگریاں جعلی تھیں، ان کا معاملہ کابینہ میں لیکر جارہے ہیں، ان پائلٹس کیخلاف تمام انکوائریاں مکمل ہوگئیں، شوکاز نوٹس بھی جاری ہوچکے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ جعلی ڈگری کی بنیاد پر 280 لوگوں کو پی ٹی آئی حکومت نے نکالا، سپریم کورٹ کے احکامات پر مشکوک ڈگری والے بیشتر لوگوں کو نکالا جاچکا، سپریم کورٹ نے پائلٹس کی جعلی ڈگریوں پر نوٹس لیا، 148 مشکوک لائسنس والے پائلٹس کی لسٹ بنادی گئی ہے، ایئر بلو کے 9 اور سیرین ایئر کے 10 پائلٹس کی ڈگریاں بھی مشکوک ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مشکوک لائسنس والے پائلٹس کی فہرست سی ای او پی آئی اے کو بھیج دی گئی ہے، ایسے پائلٹس کو جہاز اڑانے کی اجازت نہیں ہوگی، مشکوک لائسنس والے پائلٹس کی تعداد 262 ہے، 34 پائلٹس ايسے ہيں جنہوں نے 8 ميں کوئی ايک پيپر بھی نہيں ديا، 2 بوگس پیپرز والے 39 پائلٹس، ایک مشکوک پیپر والے 121 پائلٹ ہیں۔

مجموعی طور پر پاکستان میں 753 پائلٹس کام کررہے ہیں، 2018ء کے بعد پی آئی اے میں کوئی نئی بھرتی نہیں کی گئی، جن پائلٹس کیخلاف انکوائری ہوئی ان کی تعیناتی 2018ء سے پہلے کی ہیں، قومی ایئر لائنز میں اصلاحات کا عمل شروع ہوگیا ہے، جنہوں نے غلط کام کیا ہے انہیں راستے سے ہٹنا ہوگا۔

وفاقی وزیر ہوا بازی نے کہا کہ بزنس پلان کے تحت پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ ہوگی، پی آئی اے میں آئی ٹی کے شعبے میں بھی چھان بین کی جارہی ہے، لائسنس کے شعبے سے وابستہ 5 افراد کو معطل کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

غلام سرور خان کا مزید کہنا ہے کہ ايک نجی ايئر لائنز کے 9 مشکوک کپتانوں کی فہرست پی آئی اے کو بھجوادی گئی، خط میں ایسے تمام لوگوں کو گراؤنڈ کرنے کا کہہ دیا۔

GHULAM SARWAR KHAN

Tabool ads will show in this div