سلطنت عثمانیہ کی ’نیکی کی ٹوکری‘ کراچی میں نظر آنےلگی

وبا کے دنوں میں وقت کا پہیہ گھوم گیا
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/06/Naiki-Ki-Tokri-Khi-Pkg-24-06-Hasan.mp4"][/video]

نیکی کی ٹوکری کی قدیم داستان سلطنت عثمانیہ کی خوبصورت روایت رہی ہے۔ وبا کے دور میں وقت کا پہیہ ایسا گھوما کہ یہ ٹوکری اب کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی دیکھی جارہی ہے۔

نیکی کی ٹوکری آخر ہے کیا۔ اس کو سمجھنے کیلئے یہ مثال حاضر ہے۔ یاور صاحب کو اپنےگھر کے لیے دو روٹیاں لینا تھیں مگر انہوں نے چار روٹیاں خریدیں۔ دو اپنے لیے اور

دو روٹیاں اپنے مستحق بھائیوں کے لیے نیکی کی ٹوکری میں رکھ دیں۔

اسی طرح کئی لوگ ایک یا دو روٹی زیادہ خرید کر اس نیکی کی ٹوکری میں رکھ دیتے ہیں اور وہ مستحق جو روٹی خرید نہیں سکتا وہ اس ٹوکری سے روٹی لے جاتا ہے ۔اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھر کو خوب دعائیں دیتا ہے۔

کراچی کے محمد سرور نے جگہ جگہ یہ نیکی کی ٹوکریاں رکھی ہیں۔ سما ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ترک روایت ہے جہاں سے میں نے یہ آئیڈیا لیا ہے۔ دو سو ٹوکریاں ہم رکھ چکے ہیں اور ایک ہزار ٹوکریاں رکھنے کا ارادہ ہے۔

تندور پہ روٹیاں تیار کرنے والا قاسم بھی یہ منظر دیکھ کر حیران رہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں آکر روٹیاں رکھتے ہیں۔

اورنگی ٹاؤن، کورنگی، ابراہیم حیدری، کشمیر کالونی، اختر کالونی، بلدیہ اور سلطان آباد میں نیکی کی ٹوکری سیکڑوں افراد کا پیٹ بھرنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ آپ بھی نیکی کمانا چاہیں تو اپنے اپنے علاقوں میں نیکی کی ٹوکری رکھ اپنے کھانے میں مستحق بھائیوں کو شامل کرسکتے ہیں۔

Ottoman empire

Neki ki Tokri

Tabool ads will show in this div