سپریم کورٹ کالاک ڈاؤن کےدوران بجلی کی لوڈشیڈنگ پرشدیدبرہمی کااظہار

این ڈی ایم اے کی کارکردگی اور حکومتی معاشی پالیسی پر بھی سوال

سپریم کورٹ نےلاک ڈاؤن کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ پر شدید برہمی کا اظہارکیا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب تو دفاتر اورمارکیٹیں جلدی بند ہوجاتی ہیں،لوڈشیڈنگ کیوں ہورہی ہے،عدالت نے این ڈی ایم اے کی کارکردگی اور حکومتی معاشی پالیسی پر بھی سوال اٹھا دیے،لگژری گاڑیاں خریدنے کی خواہشمند سندھ حکومت کو بھی پیسے عدالت میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں کرونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ملک بھر میں جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ کا تذکرہ ہوا تو چیف جسٹس نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ لاک ڈاؤن میں لوڈشیڈنگ کیسے ہو رہی ہے،اب تو تمام اسکول اور اکثر دفاتر بند ہیں،مارکیٹیں بھی جلدی بند ہوجاتی ہیں،پھر یہ لوڈشیڈنگ کیوں ہورہی ہے،جس ملک میں 18 گھنٹے بجلی نہ ہوں وہاں عوام حکومت کی بات کیوں مانے گی؟

عدالت نے این ڈی ایم اے کی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ این ڈی ایم اے اربوں روپے ادھر ادھر خرچ کر رہا ہے،نہ جانے باہر سے کس مقصد کے لیے دوائیں منگوائی جارہی ہیں،تمام درآمد شدہ دواؤں کی منظوری ڈریپ سے ہونی چاہیے۔

عدالت نےحکومت کی معاشی پالیسی پر بھی سوال اٹھا دیا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا حکومت کی کوئی معاشی پالیسی ہے،اگر ہے تو پیش کریں۔

عدالت نےسندھ حکومت کی جانب سے 4 ارب روپے کی لاگت سے لگژری گاڑیاں خریدنے پر بھی شدید ناراضگی کا اظہارکیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صوبائی حکومت کے پاس کراچی کا نالہ صاف کرنے کے لیے پیسے نہیں مگر لگژری گاڑیوں کے لیے رقم موجود ہے۔چیف جسٹس نے گاڑیوں کے لیے مختص چار ارب روپے عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

load shedding

Tabool ads will show in this div