صرف 10ہزار مقامی عازمین حج کریں گے، کڑی شرائط عائد

بیرون ملک سے کسی کو اجازت نہیں ہوگی

سعودی عرب نے انٹرنیشنل حج آپریشن معطل کرنے کے بعد ملک میں مقیم لوگوں کیلئے بھی شرائط عائد کردی ہیں۔

سعودی وزیر صحت توفیق الربیعہ نے منگل کو سعودی وزیر حج و عمرہ محمد صالح کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال ان افراد کو حج کی اجازت ہو گی جن کی عمر 65 برس سے کم ہے اور وہ کسی دیرینہ مرض کا شکار نہیں ہیں۔

سعودی وزیر صحت نے کہا کہ حج سے قبل عازمین کا مکمل طبی معائنہ ہو گا اور حج کے فریضے کی ادائیگی کے بعد تمام حجاج کرام کو اپنے گھروں میں 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ حج کے کارکنان اور خدام کا بھی کرونا ٹیسٹ ہو گا اور مناسک کے دوران ان کی نگرانی کی جاتی رہے گی۔

سعودی وزیر صحت نے کہا کہ حج کے دوران کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط اسپتال تیار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ حج سیزن کے لیے خصوصی طبی پروٹوکولز کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔

وزیر صحت ڈاکٹر صالح نے نے کہا کہ بیرون ملک سے حجاج کو شرکت کی اجازت بالکل نہیں دی جائے گی خواہ انہوں نے کرونا کا معائنہ کرا بھی لیا ہو۔ اس حوالے سے کوئی استثنا نہیں دیا جائے گا۔

ڈاکٹر صالح کے مطابق حجاج کرام کی تعداد نہایت محدود ہوگی اور اندازہ ان کی تعداد دس ہزار سے تجاوز نہیں کرے گی۔

گزشتہ روز سعودی وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ رواں سال دوسرے ممالک کے عازمین کیلئے حج منسوخ کردیا گیا ہے جبکہ سعودی عرب میں مقیم مقامی اور غیر مقامی افراد کو حج کی اجازت ہوگی۔

Tabool ads will show in this div