سندھ: صحت کے بجٹ میں 19ارب اضافہ، 139 ارب مختص

ترقیاتی اسکیموں کیلئے 23.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں

سندھ حکومت نے صحت کے بجٹ میں 19 ارب روپے اضافہ کردیا، مالی سال 21-2020ء میں شعبہ صحت کیلئے مجموعی طور پر 139 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

سندھ حکومت نے مالی سال 21-2020ء کا 1241 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا، جس میں شعبہ صحت کیلئے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 19 ارب روپے اضافے کے ساتھ 139 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کے مطابق مالی سال 20-2019ء کیلئے محکمہ صحت کے بجٹ کا تخمینہ 120.486 ارب روپے تھا، جسے آئندہ مالی سال 21-2020ء کیلئے 19 ارب روپے بڑھا کر 139.178 ارب روپے کردیا گیا ہے، اس میں ترقیاتی اسکیموں کیلئے 23.5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

مراد علی شاہ کے مطابق محکمہ صحت کے بجٹ کو 2 بڑے حصوں ہیلتھ سروسز اور میڈیکل ایجوکیشن میں تقسیم کیا گیا ہے، پولیو، ٹی بی، ہیپاٹائٹس  اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ کیلئے 9 پروگراموں کیلئے اگلے مالی سال میں 7 بلین روپے رکھے گئے ہیں۔

بجٹ دستاویز کے مطابق ٹی بی کنٹرول پروگرام کیلئے 559.4 ملین، لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام کیلئے 1.2 ارب روپے، ہیپاٹائٹس کی روک تھام کیلئے 1.9 ارب روپے، زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی صحت سے متعلق پروگرام کیلئے 267.9 ملین روپے، ای پی آئی پروگرام کیلئے 2.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

صوبائی بجٹ میں صحت سمیت مختلف محکموں میں اسسٹنٹ اور غذائیت کی کمی کیلئے ایک ملٹی سیکٹورل ایکسلریٹڈ ایکشن پلان کے تحت 5.5 بلین روپے اور نیپا کراچی میں 200 بستر والے موذی بیماریوں پر قابوں پانے  والے اسپتال کیلئے بھی ایک ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

سندھ کے 21-2020ء کے بجٹ میں لیاری جنرل اسپتال کراچی کیلئے صحت کی دیکھ  بھال کی سہولیات کو اپ گریڈ کرنے کیلئے 23 کروڑ 46 لاکھ روپے، سندھ میں کالعدم تنظیموں کے زیر انتظام صحت کی سہولیات کو ٹیک اوور کرنے کیلئے 52 کروڑ 11 لاکھ روپے اور انڈس اسپتال کراچی کیلئے خصوصی گرانٹ کے طور پر 4 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، جن میں 2 ارب روپے موجودہ آپریشن اور 2 ارب روپے انڈس اسپتال کی توسیع پر خرچ ہوں گے۔

سندھ حکومت نے صحت کی سہولیات کیلئے پلانٹ اور مشینری کی خریداری کیلئے 1.5 بلین روپے مختص کئے ہیں جبکہ دیگر ضروریات کیلئے 25 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

بجٹ 21-2020ء میں این آئی سی وی ڈی کراچی کیلئے 5.1 جبکہ ایس آئی سی وی ڈی کیلئے بھی 5.1 ارب روپے مختص ہیں، پیر عبدالقادر شاہ جیلانی، گمبٹ کیلئے 3.6 ارب روپے اور انسٹی ٹیوٹ آف آپتھلمالوجی اینڈ ویزول سائنس حیدرآباد کیلئے 30 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ جیکب آباد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کیلئے 60 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ٹراما سینٹر کراچی کیلئے 1.7 ارب، شہداد پور انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کیلئے 30 کروڑ روپے، ایس آئی یو ٹی کیلئے 5.6 ارب، پی پی ایچ آئی سندھ کیلئے 6.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ سندھ حکومت نے این آئی بی ڈی کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔

سندھ حکومت نے چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کیلئے 90 کروڑ، انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن کراچی کیلئے 10 کروڑ اور ہیلتھ کیئر  کمیشن، کراچی کیلئے 36 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے ہیں۔

بجٹ 21-2020ء میں پولیو ورکرز کے معاوضے کیلئے بطور گرانٹ 312،  کڈنی سینٹر کراچی کیلئے گرانٹ ان ایڈ کی مد میں 20 کروڑ، بلڈ کینسر کے مریضوں کی ادویات کیلئے بطور گرانٹ ان ایڈ 43 کروڑ 11 لاکھ، تھیلسیمیا  کے علاج کیلئے 16 کروڑ روپے بطور  گرانٹ ان ایڈ شامل ہے جبکہ ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کے علاج اور فلاح و بہبود کیلئے ایک ارب روپے گرانٹ ان ایڈ کی مد میں رکھے گئے ہیں۔

صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے دیگر اداروں کیلئے سندھ کے بجٹ میں گرانٹ ان ایڈ کی مد میں 1618.5 ملین روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔

BUDGET2020

Tabool ads will show in this div