کراچی:مبینہ مضرصحت کھاناکھانےسے3بچےانتقال کرگئے

واقعہ کا نوٹس ليتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ سے رپورٹ طلب

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/06/Three-Children-Died-Pkg-Moiz-16-06.mp4"][/video]

کراچی کےعلاقےکھارادر ميں مبينہ طور پر مضرصحت کھانا کھانے سے 3 کمسن بہن بھائی جان بحق ہوگئے۔ورثا نے بغیر کسی قانونی کارروائی کے نمازجنازہ ادا کرکے ميوہ شاہ قبرستان ميں تدفین کردی ۔ ايڈيشنل آئی جی نے واقعہ کا نوٹس ليتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ سے رپورٹ طلب کرلی۔

کراچي اتوار اور پير کی درميانی رات کھارادر کی فيملی نے برنس روڈ سے خريدے گئے برگر کھائےجس سےگھرميں موجود تين بچوں کو قے اور دست لگ گئے۔ بچوں طبیعت بگڑی تو انھیں فوری طور پر کھارادرکے جنرل اسپتال منتقل کيا گيا۔

ڈاکٹرز کے مطابق جب بچوں کواسپتال لاياگيا توان ميں سے دو بچوں کا رنگ زرد پڑچکا تھا اور دونوں طبی امداد ملنے کے دوران ہی چل بسے جبکہ ايک بچے کو وينٹی ليٹرپرمنتقل کيا گيا مگروہ بھی جانبرنہ ہوسکا۔

بچوں کےورثاء پوسٹ مارٹم کے بغير ہی ميتيں گھر لے گئے اورقانونی کارروائی کے بغيرميوہ شاہ قبرستان ميں تدفين کردی۔مرنےوالوں ميں 11 سال اور 2 سال کی بچی اور 8 سال کا بچہ شامل ہیں۔

بچوں  کے دادا نے پوليس کو ابتدائي بيان قلمبند کرا ديا جس میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کے والد کسی کام کے سلسلے ميں  کوئٹہ گئے ہوئے تھے اور واقعے کی اطلاع ملنے پر خصوصی پرواز سے کراچی لوٹے تھے۔

ايڈيشنل آئی جی غلام نبی میمن نے واقعہ کا نوٹس لے ليا ہے اور ڈی آئی جی ساؤتھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کہا ہے کہ واقعہ میں جاں بحق بچوں کا پوسٹ مارٹم ہونا چاہیے تھا تاہم بچوں کے لواحقین نےپوسٹ مارٹم کروانےسےمنع کیا،آج ٹیم سےمشاورت کےبعد قانونی کارروائی کا آغاز کریں گے۔

متاثرہ فيملی کی جانب سے قانونی کارروائی سے انکار کے بعد پوليس نے اندراج مقدمہ کيلئے مدعی کوتلاش کرنا شروع کرديا ہے۔ايس پی سٹی کہتے ہيں کہ اصولی طور پر ضلعی انتظاميہ يا سندھ فوڈ اتھارٹی کی مدعيت ميں مقدمہ درج ہونا چاہيے۔

Tabool ads will show in this div