پنجاب کا 2240 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا گیا

تعلیم کیلئے 391، صحت کیلئے 284 ارب رکھا گیا ہے

پنجاب کا مالی سال 21-2020ء کیلئے 2240 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا گيا، تعلیم کيلئے 391 ارب، صحت کيلئے 284 ارب، زراعت کيلئے 31 ارب 73 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہيں۔

صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت نے لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران مالی سال 21-2020ء کا بجٹ پیش کیا۔ صوبائی حکومت نے بجٹ کو عوام دوست اور ٹیکس فری قرار دیا ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ آئندہ مالی سال میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 337 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

بجٹ کے  مطابق ترقیاتی پروگرام کے تحت سماجی شعبے کیلئے 97ارب 66 کروڑ روپے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے 77 ارب 35 کروڑ روپے، خدمات کے شعبے کیلئے 45 ارب 38 کروڑ روپے جبکہ دیگر شعبوں کیلئے 51 ارب 24 کروڑ روپے اور خصوصی پروگرام کیلئے ساڑھے 47 ارب روپے جبکہ سرکاری اورنجی شعبے کے اشتراک عمل کیلئے 25 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے سمیت 11 اہم شعبوں کیلئے ترجیحی بنیادوں پر خصوصی فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر خزانہ نے کاروباری برادری کیلئے صوبے کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹیکس ریلیف پیکیج کا بھی اعلان کیا، جس سے عوام کو بھی ریلیف ملے گا۔ پیکج کے تحت صحت کے بیمہ، ڈاکٹروں سے مشاورت فیس اور اسپتالوں کا ٹیکس ختم کردیا جائے گا جو اس وقت بالترتیب 16 اور 5 فیصد ہیں۔ ہاشم جواں بحق نے کہا کہ صحت انصاف کارڈ پروگرام کو پورے صوبے تک توسیع دی گئی ہے جبکہ 50 لاکھ خاندانوں میں صحت کارڈز تقسیم کئے جاچکے ہیں۔

پنجاب کے بجٹ میں اخراجات جاریہ کیلئے 1700 ارب سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے، جاری منصوبوں کیلئے 61 ارب اور نئے منصوبوں کو 54 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

بجٹ کے مطابق لاہور میں اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال تعمیر کیا جائے گا جبکہ دانش اسکول کیلئے 3 ارب اور اعلیٰ تعلیم کیلئے 37 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

PUNJAB

BUDGET2020

Tabool ads will show in this div