ماحولیاتی آلودگی سےمتعلق وفاقی حکومت کےخلاف توہین عدالت کیس،فیصلہ محفوظ

ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے تھی

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق وفاقی حکومت کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔ حکومت نے ماحولیاتی کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے کمیشن قائم کردیا۔ ڈاکٹر پرویز حسن سربراہ مقرر کردئیے گئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے تھی لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا۔

ہفتے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کیس پر سماعت کے دوران حکومت نے عدالت کواپنی رپورٹ سے آگاہ کردیا ۔

عدالت کوبتایا گیا کہ 2015 میں عدالتی حکم پر قائم کمیشن نے ماحولیاتی آلودگی روکنے کے لئے سفارشات تیار کیں، تین سال تک ان پر کوئی عمل نہ ہوا، 2018میں ہائیکورٹ نے کمیشن سفارشات پر عملدرآمد کا حکم جاری کیا، مزید 2 سال تک عدالتی فیصلے پر حکومت  ٹس سے مس نہ ہوئی لیکن توہین عدالت کا نوٹس ملا تو فورا حرکت میں آگئی اورسفارشات پر عملدرآمد کے لئے کمیشن قائم کردیا،بطورسربراہ ڈاکٹر پرویز حسن کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جمع کرادیا گیا۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، دنیا بہت آگے چلی گئی اور ہم ابھی بھی ایلیٹ کلاس کے پیچھے لگے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس شہر کا ماسٹر پلان ایک باہر ملک کے بندے نے بنایا اور ہم نے خراب کردیا،پتہ نہیں ہم کب سمجھیں گے کہ زندگی اور انسانیت کیا چیز ہے، سی ڈی اے نے اس شہر کے ساتھ جو کیا سب کو پتہ ہے، یہ صرف ایلیٹ کلاس کا شہر نہیں ہے۔

عدالت نے وفاقی حکومت کا جواب جمع ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

POLLUTION

Tabool ads will show in this div