ریوو 7.5فیصد ایکسائزڈیوٹی کیساتھ مزید 5لاکھ روپے مہنگی ہوجائیگی

ڈبل کیبن کوتجارتی گاڑیوں کی مد میں ٹیکس چھوٹ تھی

مقامی طور پر تیار کی جانیوالی ڈبل کیبن گاڑی ریوو حکومت کی جانب سے بجٹ 21-2020ء میں 7.5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کئے جانے کے بعد 66 لاکھ سے بڑھ کر 71 لاکھ روپے تک پہنچ جائے گی۔

وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ ڈبل کیبن پک اپس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جارہی ہے، یہ گاڑی اسٹیٹس سیمبل کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔

ماضی میں ڈبل کیبن پک اپس کو اس لئے چھوٹ دی گئی تھی کہ یہ گاڑی تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کی جاتی ہے، جو سامان منتقل کرتی ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ انتخابات کے دوران اس کی فروخت میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا، جہاں یہ گاڑیاں سیاسی مہم اور پروٹوکول کیلئے استعمال کی جاتی تھیں۔

ٹیوٹا کے تحت ریوو کے علاوہ ہائی لکس ای جبکہ اسوزو کی ڈی میکس ایسی ڈبل کیبن گاڑیاں ہیں جو پاکستان میں مقامی طور پر اسمبل کی جاتی ہیں۔

اسی طرح امپورٹڈ ڈبل کیبن گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی 25 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ کے بعد اضافہ ہوجائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا ہے کہ اگر ایک امپورٹڈ ڈبل کیبن گاڑی کی قیمت ایک کروڑ روپے تھی تو وہ اب اس کی قیمت میں 25 لاکھ روپے اضافہ ہوجائے گا۔

البتہ ڈبل آٹو انڈسٹری کی جانب سے مجموعی طور پر فروخت کی جانیوالی گاڑیوں میں ڈبل کیبن کا حصہ بہت کم ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے بجٹ میں اس صنعت کو بالکل بھی نہیں چھیڑا، ٹیکسز میں کمی ہوئی اور نہ ہی اضافہ کیا گیا۔

پاکستان کی آٹو انڈسٹری کی تین اہم کمپنیاں سوزوکی، ہونڈا اور ٹویوٹا کرونا وائرس کی وباء پھیلنے سے قبل ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ سوزوکی سے گزشتہ 6 سہ ماہیوں سے نقصانات کی اطلاعات آرہی ہیں، ہونڈا بھی 2 سہ ماہیوں سے نقصانات میں جبکہ ٹویوٹا سے بھی 30 جون 2020ء کو ختم ہونیوالی سہ ماہی میں نقصانات کی خبریں آ سکتی ہیں۔

رواں سال اپریل اور مئی میں عملاً ان کمپنیوں کی مصنوعات کی فروخت بند رہی، گزشتہ سال کے اس عرصے کے مقابلے میں گاڑیوں کی فروخت میں 75 فیصد کمی آئی۔

جے ایس ریسرچ سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار احمد لاکھانی کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں کافی توقعات تھیں کہ بجٹ میں آٹو انڈسٹری کو خاطر خواہ ریلیف ملے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

BUDGET2020

Tabool ads will show in this div