خریداری پرشناختی کارڈ کی شرط، رقم کی حد بڑھادی گئی

وفاقی حکومت نے 21-2020ء کا بجٹ پیش کردیا

نئے مالی سال کے بجٹ ميں خريداری پر قومی شناختی کارڈ کی شرط کی حد بڑھا دی گئی۔ حماد اظہر کہتے ہيں اب 50 ہزار کے بجائے ايک لاکھ روپے کی خريداری پر شناختی کارڈ دينا ہوگا۔

قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 21-2020ء پیش کردیا گیا، جس میں گزشتہ سال کے بجٹ میں 50 ہزار روپے کی خریداری پر شناختی کارڈ کی کاپی جمع کرانے کی رکھی گئی شرط کی حد بڑھادی گئی ہے۔ تاجروں کی جانب سے وفاقی حکومت پر اس شرط کے خاتمے کیلئے شدید دباؤ تھا۔

سیلز ٹیکس کا نیا قانون ایف بی آر کو تاجروں کے اندراج اور انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے متعارف کرایا گیا تھا، قومی شناختی کارڈ کی شرط نے بنیادی طور پر ٹیکس چوری کرنے والے تاجروں کو نشانہ بنایا تاہم اسے تاجروں کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان میں 3 لاکھ 81 ہزار تجارتی یونٹس ایسے ہیں جو ایف بی آر کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں تاہم صرف 47 ہزار رجسٹرڈ ہیں۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ رجسٹرڈ تجارتی یونٹس میں سے صرف 17 ہزار حکومت کو سیلز ٹیکس دیتے ہیں۔ حکومت مزید تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لاکر اس میں تبدیلی لانا چاہتی ہے۔

البتہ حکومت نے قومی شناختی کارڈ کی شرط پر عملدرآمد جاری رکھا تاہم اقتصادی حالت، ہول سیل اور ریٹیل آمدن میں کمی کے بعد کرونا وائرس کی وباء نے حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی پر مجبور کردیا۔

دوسری جانب بجٹ 2020ء میں بڑے ریٹیلرز کیلئے سیلز ٹیکس کی شرح 14 سے کم کرکے 12 فیصد کردی گئی ہے۔ یہ فیصلہ بھی کرونا وائرس کی وباء کے معیشت پر تباہ کن اثرات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

BUDGET2020

Tabool ads will show in this div