غذائی اشیاء کی کنٹرول نرخوں پر فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے، سپریم کورٹ

اسٹاف رپورٹ


اسلام آباد : سپریم کورٹ نے آٹے کی قیمت میں اضافے سے متعلق  کیس میں قرار دیا ہے کہ غذائی اشیاء کی کنٹرول نرخوں پر فراہمی حکومت کی  ذمہ داری ہے، آئین کی عملداری کو ترجیح دی جائے، عدالت نے آٹے کی فراہمی سے متعلق رجسٹرار سے 15 روز میں رپورٹ طلب کرلی۔


چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ مارکیٹ میں آٹا 48 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے اور حکومت خاموش ہے، کیا آٹے کی قیمتیں مقرر کرنا بھی سپریم کورٹ کا کام ہے۔


انہوں نے استفسار کیا کہ حکومت کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے؟ غریب کو ایک وقت کا کھانا ملتا ہے وہ بھی چھینا جارہا ہے۔


عدالت نے قرار دیا کہ اناج کی قیمتیں مقرر کرنا نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی ذمہ داری ہے، غذائی تحفظ فراہم کرنا آئین کے تحت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کا ذمہ ہے اور وفاق صوبوں کو سبسڈائز نرخوں پر آٹے کی فراہمی کا پابند ہے، وفاق اس حوالے سے اپنی ذمے داری قبول نہیں کر رہا، قیمتیں بڑھنے کا رجحان جاری ہے، روٹی غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہورہی ہے۔


عدالت کا مزید کہنا ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود ریاست کی آئینی ذمے داری ہے، غذائی اشیاء کی کنٹرول نرخوں پر فراہمی کو ترجیح دی جائے، عدالت نے رجسٹرار کو 15 روز میں آٹے کی فراہمی سے متعلق رپورٹ جمع  کرانے کی ہدایت کردی۔  سماء

کی

پر

Video

proposes

democratic

danger

soldier

Tabool ads will show in this div