پہلی بارحکومتی اخراجات ہماری آمدن سے کم ہوئے،مشیرخزانہ

ٹيکسز کو بہترکرنے کييلئے اقدامات کيے
Jun 11, 2020

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/06/MA-HAFEEZ-SHEIKH-ON-TAX-SOT-11-06.mp4"][/video]

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ حکومتی اخراجات کو سخت انداز ميں کنٹرول کيا گيا،پہلی بار حکومتی اخراجات ہماری آمدن سے کم ہوئے،اگلے سال 3 ہزار ارب روپے کے قرضے واپس کیئے جائیں گے،سکڑتی ہوئی معیشت سے نکلنے کیلئے اقدامات کریں گے۔انھوں نے واضح کیا کہ نئے بجٹ میں نئے ٹیکس نہیں لگائے جائیں گے،موجودہ ٹیکس ریٹس میں بھی کمی لانے کی کوشش ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے پریس کانفرنس کی جس میں عبدالرزاق داؤد، ثانیہ نشتر، سیکرٹری خزانہ نوید کامران نے بھی شرکت کی۔

مشير خزانہ نے اکنامک سروے سے متعلق بريفنگ دی اور کہا کہ ہميں اقتصادی بحران ورثے ميں ملا،ڈالر سستا رکھنے کی وجہ سے برآمدات ميں اضافہ ہوگيا،حکومت نے ٹيکسز کو بہترکرنے کييلئے اقدامات کيے،حکومت نے اپني جيب سے بزنس سيکٹر کو مراعات ديں۔

حفيظ شيخ نے کہا کہ ورثے ميں ملے 20 ارب ڈالر خسارے کو کم کرکے 3 ارب ڈالر پر لائے،ماضی ميں ليے گئے قرضوں کو بھی واپس کيا گيا،ماضی کی حکومت کے ليے گئے 5 ہزار ارب روپے واپس کيے گئے۔

حفيظ شيخ نے بتایا کہ ملکی خسارے ميں 73 فيصد کمی کی گئی،پورا سال اسٹیٹ بینک سےایک ٹکہ قرض نہیں لیا،کسی ادارے کو کوئی اضافی گرانٹ نہیں دی،عوام کے پیسے کو احتیاط سے خرچ کیا گیا اور حکومت نے بجلی، گیس اور قرضے سستے کیے۔

ٹیکس سے متعلق مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹيکسز ميں اطمينان بخش اضافہ ہوا،کرونا آنے سے پہلے ٹیکس ریونیو میں 17 فیصد اضافہ ہوا تاہم کرونا کی وجہ سے رفتار میں کمی آئی ورنہ ٹیکس محاصل 27 فیصد اضافہ ہوتا۔

انھوں نے بتایا کہ 2 سال پہلے ڈیفالٹ کی طرف جارہے تھے،ہم نے فوج کا بجٹ بھی منجمد کیا،کم بجٹ کے باوجود احساس پروگرام کا بجٹ ڈبل کیا،بجٹ بڑھا کر 192 ارب روپے تک لے گئے۔

مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ آئی ايم ايف کی پيشگوئی ہے کہ دنيا کی 3 سے 4 فيصد آمدن گرے گی۔تاہم کرونا کی وجہ سے ملک ميں مالی استحکام متاثر ہوا اور پاکستانی معيشت کو3ہزار ارب کا نقصان ہوا۔

انھوں نے کہا کہ معاشی شرح نمو 3 فیصد ہدف کے بجائے صفر اعشاریہ 4 فیصد رہی،اس ماحول ميں نہيں چاہتے کہ شہريوں پر ٹيکس کي گرفت مضبوط کريں۔

ایف بی آر سے متعلق حفیظ شیخ نے بتایا کہ ایف بی آر کے ٹیکس محاصل 3900 ارب روپے تک رہے گی،ایف بی آر کو 800 ارب روپے کا نقصان ہوا،کرونا سے اپنی معيشت اور لوگوں کو بچانے کا فيصلہ کيا،1240 ارب روپے کا پيکج ديا گيا، اسٹيٹ بينک کو سبسڈی دی گئی جبکہ ايک کروڑ 60 لاکھ خاندانوں کو کيش رقم دينے کا فيصلہ کيا گيا۔

Economic Survey

Tabool ads will show in this div