اوگراکی ہدایت پرضلعی حکومتوں کےچھاپے،ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹ پرگرفتاریاں

جانچ پڑتال کررہی ہیں
Jun 10, 2020
[caption id="attachment_1905937" align="alignnone" width="640"] فوٹو: اے ایف پی[/caption]

اوگرا کی ہدایت پرضلعی حکومتوں کے مختلف شہروں میں چھاپے جاری ہیں۔ کراچی میں کیماڑی آئل ڈپو سے گو اور ہیسکول کمپنی کے 2 افسران گرفتار کرلئے گئے۔

کراچی سے گرفتارافسران پٹرول و ڈیزل کی سپلائی میں رکاوٹ ڈال رہے تھے۔تاروجبہ ڈپو پشاورسے بھی شیل کے ایک اہم عہدیدار کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے علاوہ اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں چھاپے جاری ہیں۔ چھاپہ مار ٹیمیں پمپس پراسٹاکس کی جانچ پڑتال کررہی ہیں۔ ضلعی حکومتیں کارروائیوں کی رپورٹ اوگرا کو ارسال کریں گی۔ ادھر وزارت توانائی نے صورتحال کے جائزے کیلئےاہم اجلاس طلب کیا جس میں عمر ایوب، ندیم بابر اور سیکرٹری پٹرولیم نےشرکت کی۔ وزیرتوانائی نےمصنوعی قلت میں ملوث کمپنیوں کے خلاف سخت ایکشن کی ہدایت جاری کردی۔ اوگرا نے واضح کیا تھا کہ پیٹرول پمپس پر مصنوعی قلت اور قيمت ميں خود ساختہ اضافہ کرنے والے پمپ سيل کرديے جائيں گے، پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی جلد معمول پر آجائے گی۔ چيئرمين آل پاکستان آئل ریٹیلرز ایسوی ايشنزغياث پراچہ نے کہا تھا کہ اوگرا سپلائی بحال کرنے ميں ناکام ہے اور پٹرول بحران کے ذمہ داران کيخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ ادھر فيول کرائسسز کميٹی نے ملک ميں پيٹرول بحران پراپنی رپورٹ تيار کی جس میں2 نجی آئل مارکيٹنگ کمپنيوں کے سی ای اوز کيخلاف مقدمہ درج کروا ديا گيا ۔ کمپنيوں کی جانب سے ہورڈنگ اور بليک مارکيٹنگ کا انکشاف ہونے پر قوانین کے تحت ایکشن ہوگا۔

واضح رہے کہ اوگرا نے 3 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں پٹرول و ڈیزل کی عدم فراہمی کی وجوہات طلب کی گئیں اور پوچھا گیا کہ پٹرول پمپس پرمطلوبہ اسٹاک کیوں نہیں رکھا گیا۔ ہائیڈرو کاربن ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان نے بھی اپنی رپورٹ میں پٹرولیم بحران سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ اوگرا کا کہنا تھا کہ بعض آئل مارکیٹنگ کمپنیاں مطلوبہ مقدارمیں سپلائی نہیں کررہیں۔ بحرانی کیفیت سے بچنے کیلئے کمپنیاں پٹرول و ڈیزل کی دستیابی یقینی بنائیں۔

Tabool ads will show in this div