منی لانڈرنگ،پارک لین ریفرنس:سابق صدرزرداری پر فردِجرم عائدنہ ہو سکی

سماعت 7 جولائی تک ملتوی

احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے پارک لین ریفرنس میں آصف زرداری اور دیگر پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 26 جون کی تاریخ مقرر کردی، ویڈیو لنک کے ذریعے بیانات پر زرداری کے وکیل نے اعتراض کردیا، جب کہ فریال تالپور کے وکیل نے رضامندی ظاہر کردی۔ جعلی اکاؤنٹس کے دیگر 5 ریفرنسز کی سماعت 7 جولائی کو ہوگی۔

بدھ 10 کو احتساب عدالت اسلام آباد میں سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور سے متعلق مختلف ریفرنسز کی سماعت ہوئے، جب کہ جعلی اکاؤنٹس کیس کا پارک لین ریفرنس نیب کی درخواست پر دیگر ریفرنسز سے الگ کردیا گیا۔ اس موقع پر احتساب عدالت میں نیب کی سینیر پراسیکیوشن ٹیم خود پیش ہوئی۔

سماعت کے دوران نیب کا کہنا تھا کہ پارک لین کیس ہی ایک سال سے حاضریوں اور میڈیکل سرٹیفکیٹس سے آگے نہ بڑھ سکا، لمبی تاریخیں دینے سے نہ کیس آگے بڑھیں گے نہ ختم ہونگے۔ نیب کی جانب سے اس موقع پر پارک لین ریفرنس میں آصف علی زرداری اور دیگر پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ جلد مقرر کرنے کی استدعا کی گئی، جس پر عدالت نے عدالت نے 26 جون کی تاریخ مقرر کردی۔

نیب نے عدالت کے روبرو بتایا کہ نیب نے بتایا کہ فرد جرم کیلئے انور مجید کی ویڈیو لنک حاضری کا انتظام مکمل کر لیا ہے۔ تاہم آصف زرداری اور فریال تالپور کی آن لائن حاضری پر پی پی وکلاء کے متضاد بیانات سامنے آئے۔ سابق صدر کے وکیل لطیف کھوسہ نے ویڈیو لنک پر فرد جرم پر سخت اعتراض کیا۔ فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ جدید زمانہ ہے، جدید آلات موجود ہیں، پرانی باتیں ختم ہوگئیں۔

لطیف کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ ویسے بھی دونوں کی عمریں 60 برس سے زائد اور معمر افراد کرونا کا زیادہ شکار ہوسکتے ہیں، جس پر عدالت نے آصف زرداری اور فریال تالپور کی حاضری سے ایک روزہ استثنیٰ کی درخواست بھی منظور کرلی۔ عدالت نے کہا ویڈیو لنک پر بیان اور فرد جرم کے لئے تحریری حکمنامہ جاری کریں گے جس کو اعتراض ہو وہ چیلنج کر لے، جب کہ جعلی اکاؤنٹس کے ٹھٹھہ واٹر سپلائی ، پنک ریذیڈنسی ، شوگر سبسڈی اور فلاحی پاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے ریفرنسز کی سماعت 7 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔

ZARDARI

PARKLANE CASE

Tabool ads will show in this div