شوگر انکوائری ایکشن پوائنٹس کی منظوری دے دی گئی

کیسز نیب اور ایف آئی اے کو بھیجے جائیں گے
Jun 07, 2020

وزیراعظم عمران خان نے ملک میں چینی بحران کے معاملے پر شوگر انکوائری ایکشن پوائنٹس کی منظوری دے دی۔

اسلام آباد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی احتساب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ آج وزیر اعظم سے بنی گالا میں تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں اہم امور پر فیصلے کیے گئے۔

ایکشن پوائنٹس سے متعلق شہزاد اکبر نے بتایا کہ پہلے ملوث افراد کو سزا ریکوری شامل ہے، دوسرا نقطہ ریگولیٹری فریم ورک کی بہتری ہے اور تیسرا ایکشن پوائنٹ قیمتوں کو مقررہ قیمت پر لانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے اجلاس میں شوگر انڈسٹری کو ریگولیٹ کرنے کی سفارشات کی بھی منظوری دی جبکہ سفارشات کے مطابق ملوث افراد کیخلاف کیسز نیب اور ایف آئی اے کو بھجوائے جائیں گے۔ سبسڈی کی مد میں ایکشن لیا جائے گا اور سبسڈی کے 29 ارب کا معاملہ نیب کو بھیجا جا رہا ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ اگر فیکرٹریز نے سبسڈی میں رولز کو بائی پاس کیا تو وہ بھی انکوئری ہوگی۔ 2014/15 میں 6 ارب روپے اور 2017 کے 20 ارب روپے کا کیس نیب کے حوالے کیا جائے گا۔ شوگر کی پانچ سالہ فرانزک میں زیادتی نظر آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1985 تک فائدہ اٹھانے کے کیس کا ریفرنس نیب کو بھیجیں گے کیونکہ نوے کی دہائی میں بڑے سیاسی خاندان نے بھارت میں چینی برآمد کی اور اس میں بڑے پیمانے پر سبسڈی دی گئی۔ سبسڈیز کا سارا معاملہ نیب کے حوالے ہوگا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ 9 نہیں بلکہ 80 ملز ہیں سب کی انکوائری نیب کرے گا جبکہ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور بے نامی ٹرانزیکشنز ایف بی آر کے حوالے ہوں گے۔ 90 دن میں ریکوری اور کیسز فائل ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ 9 ملز کی تو کمیشن رپورٹ ہے جس کے مطابق 30 ارب روپے کا ٹیکس ہیر پھیر شامل ہے۔ کمیشن تمام ثبوت تحقیقاتی اداروں کو فراہم کرے گا اور ایف بی آر کی ٹیکس بے نامی ٹرانزیکشنز کو میرا آفس مانیٹر کرے گا۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ کارٹیلائزیشن کا معاملہ مسابقتی کمیشن کو بھیجیں گے اور اسکی بھی 90 دن میں رپورٹ لیں گے۔ مسابقتی کمیشن میں ایک ہفتے بعد نئی ٹیم آئے گی۔ اسکے ساتھ قرضے ماضی جعلی برآمدت کے نام پر سبسڈی کی انکوائری اسٹیٹ بینک کرے گا جو کہ 90 دن میں رپورٹ وفاقی حکومت کو دے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایس ای سی پی کارپوریٹ فراڈ کا معاملہ ایف آئی اے کو دیں گے۔ افغانستان میں چینی برآمد کا معاملہ بھی ایف آئی اے کو بھیج دیا ہے کیونکہ چینی افغانستان گئی نہیں لیکن رقم لے لی گئی اور اسکی بھی 90 دن میں رپورٹ لیں گے۔ گنے کی کم قیمت بروقت ادائیگی نہ کرنے کا معاملہ بھی صوبائی اینٹی کرپشن حکومتوں کو بھیجا جا رہا ہے۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ آن لائن اسٹاکنگ کے آپشن پر کام جاری ہے۔ چینی کی قیمتوں پر وزیر صنعت کی سربراہی میں کمیٹی بنائیں گے اور چینی کی قیمتوں میں کمی کا ٹاسک اسی کمیٹی کو دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام مافیا کیخلاف ایکشن ہوگا کیونکہ وزیر اعظم عدالت میں حساب دیں سکتے ہیں تو مافیاز کیوں نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی پہلے رپورٹ پڑھیں۔ آپ نے سلمان شہباز کے کہنے پر 20 ارب روپے کی سبسڈی دی۔ یہ بھی کہا کہ جب ذاتی ملازم کو وزیر اعظم بنائیں گے تو نتیجہ یہی آئے گا۔

SUGAR CRISIS

SHAHZAD AKBAR

Tabool ads will show in this div