پاکستان اسٹيل کےایک ہزارملازمين کےعلاوہ سب فارغ ہونگے،انتظامیہ

نئےسی ای او کی فوری تعیناتی

[caption id="attachment_1861692" align="alignnone" width="640"] فوٹو: اے ایف پی[/caption]

اسٹيل مل انتظاميہ نے سپريم کورٹ ميں رپورٹ جمع کرادی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اسٹيل ملز کے ايک ہزار ملازمين کو چھوڑ کر باقی سب کو فارغ کيا جارہا ہے۔

سپریم کورٹ میں جمع رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ اسٹيل مل ميں صرف ايک ہزار ملازمين کی گنجائش ہے،7 ہزار 8 سو 84 ملازمين کو فارغ کررہے ہيں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ اور سابق ملازمین کو 40 ارب کی ادائیگیاں کرنا ہوں گی،وفاقی حکومت کو ملازمین کو برطرفی پر تمام واجبات ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ 15 اپریل کو ہیومن ریسورس بورڈ میٹنگ میں ہوا۔2015 سے بند مل کے ملازمین کو 30 ارب روپے کی ادائیگیاں ہوچکی ہيں،وفاق بیل آؤٹ پیکجز اور تنخواہوں کی مد میں 92 ارب روپے ادا کرچکا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ مختلف منصوبوں کی مد میں قومی خزانے کو 229 ارب کا نقصان پہنچا ہے۔

اس کےعلاوہ اسٹیل ملزانتظامیہ نےنئے سی ای او کی فوری تعیناتی اور زمینوں پر قبضہ ختم کرانے کیلئے پولیس اور رینجرز کی مدد فراہم کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔

بدھ کو مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ای سی سی کے اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز کے تمام ملازمین فارغ کرنے کی منظوری دی گئی۔ اسٹیل ملز کے 9350 ملازمین کو ایک ماہ کے نوٹس پر فارغ کردیا جائے گا۔

پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کو18 ارب روپے کا پیکج دیا جائے گا۔کم و بیش 23 لاکھ روپے فی ملازم معاوضہ دیا جائے گا۔ تاہم 250 ملازمین پلان پر عمل درآمد کیلئے 120 دن تک کام کرتے رہیں گے۔

پاکستان اسٹیل ملز پر اس وقت 585 ارب روپے کا قرضہ اور خسارہ ہے جس میں 300 ارب روپے کا خسارہ ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز اس وقت 35 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں ادا کررہا تھا۔90 کروڑ روپے ماہانہ سود کی مد میں دئیے جاتے ہیں۔ 90 کروڑ روپے کے دیگر اخراجات بھی ہیں جن میں ٹرانسپورٹ اور میڈیکل شامل ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس کی تنظیم نو کرکے نجکاری کی جائے۔

Tabool ads will show in this div