انٹرنیٹ بندش کیخلاف خیبر میں احتجاج

پاک افغان شاہراہ بند کرنے کی دھمکی
Jun 03, 2020

قبائلی اضلاع میں انٹرنیٹ کی بندش کے خلاف لنڈیکوتل میں طلبہ اور تاجروں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف آن لائن کلاسز شروع کیے جارہے ہیں، دوسری جانب قبائلی اضلاع میں کئی برس سے انٹرنیٹ بند ہے۔

قبائلی اضلاع میں فوجی آپریشن کے آغاز سے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروس مکمل معطل ہے جبکہ بعض مقامات پر تھری اور فور جی کی سہولت دستیاب نہیں جس کے باعث تعلیمی اور کاروباری سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

بدھ کو ضلع خیبر کے علاقہ لنڈیکوتل میں طلبہ اور تاجروں نے مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے انٹرنیٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے خیبر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے صدر ابودردا شینواری اور حارث شینواری نے کہا کہ حکومت نے طلبا کے لئے ان لائن کلاسز شروع کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن قبائلی اضلاع بالخصوص ضلع خیبر میں انٹرنیٹ سروس بند ہونے کے باعث ہزاروں طلبا ان لائن کلاسز سے محروم ہیں اور ان کا مستقبل تاریکی میں ڈوب گیا ہے۔

ابودردا شینواری نے کہا کہ علاقے میں مکمل امن بھی قائم ہوگیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔ ایک ہفتے میں انٹرنیٹ سروس بحال نہ کی گئی تو پاک افغان شاہراہ ہرقسم ٹریفک کے لئے بند کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے دو بار انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان کیا گیا لیکن ابھی تک علاقے میں انٹر نیٹ سروس بحال نہ ہوسکی۔

internet service

Tabool ads will show in this div