سیاسی و مذہبی رہنماؤں کا کراچی میں امن و امان اور آپریشن پر تحفظات کا اظہار

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ


اسلام آباد : سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے کراچی شہر میں امن و امان کی صورتحال اور آپریشن پر تحفظات کا اظہار کردیا۔ واسع جلیل کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت پورے ملک میں امن دشمنوں کیخلاف ایمانداری کے ساتھ کارروائی ہونی چاہئے۔ امین فہیم نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کا مسئلہ بہت پرانا ہے، اس کی صحیح تشخیص اور علاج ہونا چاہئے۔ شوکت یوسفزئی کہتے ہیں کہ سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر ایماندار پولیس افسران مقرر کئے جائیں جنہیں مکمل اختیار ہو کہ وہ امن کیلئے جو چاہیں کریں، کراچی میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز ختم ہونے چاہئیں۔ مفتی محمد نعیم نے کراچی آپریشن کو آپریشن کے نام پر دھبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ دکھاوا ہے، ملزمان کو پکڑنے کے دعویدار کہاں ہیں روزانہ شہر میں لاشیں گررہی ہیں۔ نعیم الرحمان نے کہا کہ شہر میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم میں کس کا ہاتھ ہے سب جانتے ہیں۔


ایم کیو ایم کے رہنما واسع جلیل نے کہا کہ الطاف حسین نے کوئی انوکھی بات نہیں کی، طالبان سے جماعت اسلامی کی وابستگی سے متعلق صحافی پہلے بھی لکھ چکے ہیں، القاعدہ کے لوگ جماعت اسلامی کے لوگوں کے گھروں سے پکڑے گئے، ہمیں طے کرنا ہوگا کہ لبرل پاکستان چاہئے یا شدت پسند۔


ان کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت پورے ملک میں امن دشمنوں کیخلاف ایمانداری کے ساتھ کارروائی ہونی چاہئے، ایم کیو ایم نے کسی پولیس افسر کو ہٹانے یا لگانے پر رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔


پیپلزپارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم نے کہا کہ پاکستان میں امن قائم ہونا چاہئے،  بیرونی قوتیں یہاں لوگوں کو لڑا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔


انہوں نے کہا کہ میزائل حملوں کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر آواز اٹھانی چاہئے، مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے مسائل پر قابو پانا ہوگا، ہمیں چاہئے کہ دشمنوں کے خلاف متحد ہوجائیں۔


امین فہیم کہتے ہیں کہ کراچی میں امن و امان کا مسئلہ بہت پرانا ہے، اس کی صحیح تشخیص اور علاج ہونا چاہئے، جس جماعت کو تحفظات ہیں وہ صحیح فورم پر اس حوالے سے بات کرے۔


پی ٹی آئی کے رہنما اور خیبرپختونخوا کے وزیر صحت شوکت یوسفزئی کا کراچی آپریشن سے متعلق  کہنا ہے کہ سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر ایماندار پولیس افسران مقرر کئے جائیں جنہیں مکمل اختیار ہو کہ وہ امن کیلئے کام کریں، کراچی میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز ختم ہونے چاہئیں۔


ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اٹھا کر لاپتہ کردینا انتہائی زیادتی ہے، جس پر الزامات ہیں اسے عدالت میں لایا جانا چاہئے تاکہ اسے قانون کے مطابق سزا دی جاسکے۔


ممتاز عالم دین مفتی محمد نعیم نے کہا ہے کہ یونیورسٹیوں میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اساتذہ اور طلبہ کی صحیح تربیت نہ ہونے کا نتیجہ ہے، تعلیمی اداروں میں کسی سیاسی تنظیم کی اجازت نہیں ہونی چاہئے، تعلیمی اداروں کو صرف تعلیم تک محدود رہنا چاہئے۔


ان کا کہنا ہے کہ حکمران مخلص ہوں تو ملک میں سیاسی و مذہبی تقسیم نہیں ہوگی، ریاست خود چاہتی ہے کہ لوگ بٹے رہیں اور ہم حکمرانی کرتے رہیں، کراچی میں کیا جانے والا آپریشن صرف دکھاوا اور آپریشن کے نام پر دھبہ ہے،  ٹارگٹ کلرز کو پکڑنے کے دعویدار کہاں ہیں شہر میں روزانہ لاشیں گررہی ہیں۔


مفتی نعیم کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ صرف 35 افراد کی بات کرتی ہے، بوڑھے ماں باپ کے ہزاروں بچے لاپتہ ہیں، جو مجرم ہیں انہیں عدالتوں سمیں پیش کرکے قانون کے مطابق سزا دینی چاہئے۔


جماعت اسلامی کے رہنما نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ کراچی شہر میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم میں کس کا ہاتھ ہے سب جانتے ہیں، اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ سماء

اور

میں

کا

burger

پر

شوبز

prophet

Tabool ads will show in this div