کالمز / بلاگ

مذہبی عقائد کی آزادی، پاکستان پاسداری کے عزم پر قائم

ہمیں ہر مذہب اور فرقے کا احترام کرنا ہے
فوٹو: شیراز بشیر
فوٹو: شیراز بشیر
فوٹو: شیراز بشیر

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح آئین و قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والے ایک سچے کھرے اور دیانت دار لیڈر تھے۔ قائداعظم نے 11 اگست 1947 کو اپنی تقریرمیں کہا تھا کہ ’’آپ آزاد ہیں، آپ آزاد ہیں اپنے مندورں میں جانے کےلئے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کےلئے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کےلئے، آُپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں‘‘۔

سکھ ہوں، ہندو یا پھر مسیحی بھائی پاکستان میں پرسکون اور پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ آئین پاکستان سمیت تمام حکومتیں مسلم کمیونٹی کی طرح اقلیتی کمیونٹی کو بھی حقوق دینے کے عزم اظہار کرتے ہیں۔ صوبائی محکموں میں ضلعی سطح پر تمام شہریوں خواہ مسلم ہوں یا اقلیت آپ کو اپنا حق لینے میں دشواری کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ میں قیام پاکستان کے وقت بڑی تعداد میں کرسچن کمیونٹی آباد تھی لیکن دن گزرنے کے ساتھ ہی یہ تعداد کم ہوتی چلی گئی۔ تعداد میں کم اور معاشی طور پر کمزور ہونے کے باعث انہیں مسائل کا سامنا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق کرسچن برادری کی 24، ہندوں کی 1 اور احمدیوں کی 8 عبادت گاہیں ہیں۔ ضلع مظفرگڑھ میں کرسچن کمیونٹی کی تقریباً 1680 خاندان اور ہندو کمیونٹی کے 51 خاندان آباد ہیں۔

ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر اقلیتی امور وسیم شاکر کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے سال میں ایک بار مذہبی تہوار کے موقع پر فوٹو سیشن کے لئے یاد کیا جاتا ہے۔ 1983 میں گورنر پنجاب نے 800 سے 900 کرسچن خاندانوں کو عیسائی اسکیم کے تحت ساڑھے ایک خاندان کو 12 ایکڑ زمین الاٹ ہونی تھی، جس کی رقم گورنمنٹ کو ادا کر دی مگر مقامی بااثر افراد نے ہمارے لئے زمین تنگ کر دی مخلتف طریقوں سے دھمکایا گیا۔ حساس نوعیت کے مقدمات ہمارے لوگوں کے خلاف درج کرائے گئے۔ ہمارے محب وطن پاکستانی کمیونٹی کے غریب افراد نے بنجروریت کے ٹیلوں کو تین نسلوں کا خون پسینہ بہاکر آباد کیا، ذاتی سرمایہ لگا کر اس زمین کو قابل کاشت بنایا، آج بھی ہم پینے کا پانی 10 کلو میٹر دور سے لاتے ہیں، جب فصل آٹھانے کا موقع آیا تب علاقائی جاگیرداروں نے زمینیں چھین لی جسکا کیس آج بھی ڈپٹی کمشنر آفس میں چل رہا ہے۔ عیسائی اسکیم کی زمین سے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں لیکن ہمیں مالکانہ حقوق نہیں مل سکے۔ حکومت کی جانب سے ہماری عبادتگاہوں کو ترقیاتی فنڈز دینے میں بھی نظرانداز کیا جاتا ہے۔ مقامی طور چندہ جمع کرکے مرمت کا کام کراتے ہیں۔ 2017 میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ سیف علی جپہ نے مظفرگڑھ شہر کے وسط میں قائم سب سے بڑے چرچ کی چار دیواری تعمیر کرائی تھی۔ دیہی علاقوں میں لوگوں نے اپنے گھروں میں عبادتگاہیں (کیتھل) بنا رکھی ہیں، چوک سرور شہید کے علاقے عزیزآباد میں ہماری عبدتگاہ گرا دی گئی اور زمین پر قبضہ کرلیا گزشتہ سال آئی جی پنجاب کو درخواست دی، محکمہ مال نے بھی رپورٹ کی کہ یہاں کرسچن کمیونٹی کی عبادتگاہ کے آثار ملتے ہیں مگر آج تک کارروائی نہیں ہوئی۔ دراصل ہماری تعداد بہت کم ہے اور دوسری جانب ایک بڑی آبادی ہے، ضلع بھر میں ہماری عبادتگاہوں کو حکومت سطح پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انتظامی طور پر بھی صورتحال ناگفتہ بہ ہے۔ 2017 میں تحصیل کوٹ ادو میں مینارٹی کمیٹی بنائی گئی جس کا چیئرمین اسسٹنٹ کمشنر کوٹ ادو کو بنایا گیا۔ اس کمیٹی کو ضلعی سطح پر قائم کرنا تھا آج تک اس کا قیام عمل میں نا آسکا۔ وسیم شاکر نے بتایا کہ چک نمبر 547 ٹی ڈی اے میں اطراف کے 7 چک ایسے ہیں جہاں بجلی کی سہولت میسر ہے مگر جس چک میں ہمارے لوگ آباد ہیں وہاں بجلی دستیاب نہیں۔

شمعون مسیح بتاتے ہیں کہ جھنگ روڈ پر چک فرازی کے علاقے میں چک نمبر 5/4/ایل، 6/4/ایل اور7/4/ایل میں کرسچن کمیونٹی کے 2000 افراد رہائش پزیر ہیں۔ لوگوں کا ذریعہ معاش محنت مزدوری ہے کچھ لوگ کاشتکاری کے شعبہ سے وابسطہ ہیں۔ 30 سال قبل مقامی افراد اور حکومت کی کچھ امداد سے چرچ تعمیر کیا گیا تھا لیکن فنڈز کی کمی کے باعث چرچ کی بیرونی حفاظتی دیوار تعمیر نا ہوسکی۔ اج تک چرچ کی چار دیواری نامکمل ہے اس سال برادری نے فیصلہ کیا تھا کہ چندہ کرکے دیوار تعمیر کرائیں گے مگر رواں سال شدید بارشوں نے فصلات تباہ کردیں۔

تحصیل علی پور میں ہندو کمیونٹی کے لالہ سکھ داس کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہمارے مندروں میں محکمہ اوقاف کی ملی بھگت سے لوگ رہ رہے ہیں، متعدد بار محکمہ اوقاف کو درخواستیں بھیج چکے ہیں لیکن آج تک شنوائی نہیں ہوئی۔ ہندو کمیونٹی کے ماسٹر چنوں رام کہتے ہیں کہ ہم قیام پاکستان کے بعد سے ابتک گھروں میں پوجا کرتے آ رہے ہیں، ہماری کمیونٹی کے اب 250/300 افراد رہ گئے ہیں کئی خاندان نقل مکانی کرگئے۔ اب ہم نے چوک پرمٹ پر اپنے گھر میں عبادتگاہ بنائی ہوئی ہے مسلم کمیونٹی کے ساتھ اچھے روابط ہیں، ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں، ہمارے تہواروں پر انتظامیہ سیکورٹی بھی دیتی ہے۔ اسی طرح تحصیل کوٹ ادو میں کیراڑی والا کے علاقے میں ہمارے لوگوں کی کافی زمین تھی آہستہ آہستہ وہاں بااثر افراد قابض ہوتے چلے گئے، 2004 میں ہمارے رشتہ دار تلسی داس کی شادی تھی مگر مقامی افراد نے بارات گزرنے کا بھی راستہ نہیں دیا وہ لوگ تنگ آکر شیخوپورہ شفٹ ہوگئے۔ لالہ سکھ داس نے کہا ’’ہم یہاں جو چند ایک لوگ رہ گئے ہیں سب اپنے آپ میں ہی مگن ہیں ہوسکتا ہے کہ ایک دو نسل میں ہم ختم ہوجائیں‘‘۔

سابق چئیرمین یونین کونسل منیراحمد باروی کہتے ہیں کہ بلدیاتی نظامت کے دور میں ملنے والا فنڈ دیہی ترقی کے لئے خرچ کیا، ان علاقوں میں کئی بستیوں میں سڑکیں، گلیاں تعمیر کیں۔ صفائی ستھرائی پر بھی توجہ دی گئی کیونکہ ٹی ڈی اے کا علاقہ ہزاروں ایکٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ محدود وسائل میں ملنے والے ترقیاتی فنڈز سے بہتر سے بہتر کام کرانےکی کوشش کی ہے۔

ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ انجئنیر امجد شعیب ترین کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں تمام مکاتب فکر کی امن کمیٹی قائم ہے جو تمام کمیونٹی سے رابطے میں ہے۔ ضلع میں تمام کمیونٹی کے ساتھ ملکر امن کی فضاء قائم ہے، اقلیتی مذاہب کے مقدمات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کرونا کے باعث لینڈ ریونیو کے کیسز کی سماعت نہیں کی جا رہی تمام کیسز پر قانون کے مطابق عملدرآمد ہوگا، رائٹ ٹوانفارمیشن ایکٹ کے تحت معلومات حاصل کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر آفس درخواست بھیج دی۔

ترجمان پنجاب پولیس وسیم خان گوپانگ نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے حکم پر ضلع بھر میں مذہبی اقلیتوں کی عبادتگاہوں کی فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ مستقل طور سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں، سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے کنٹرول روم 24 گھنٹے مانیٹرنگ کرتا ہے ڈی پی او مظفر گڑھ نعیم عباس کی ہدایت پر رات کو متعلقہ تھانوں کے علاوہ ایلیٹ فورس گشت کرتی ہے جبکہ خصوصی طور پر ڈی ایس پی لیول کے آفیسر متعلقہ تحصیلوں میں مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہ کی سیکیورٹی روزانہ کی بنیاد پر چیک کی جاتی ہے۔

پاکستان کے حالات، مختلف ادوار میں پیش آنے والے واقعات، سیاسی، معاشرتی و معاشی مسائل کی وجہ سے یہاں پیدا ہونے والی نسلوں کی سوچ، سمجھ اور خیالات میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ پاکستان میں مسلمانوں کے ساتھ دیگر مذاہب کے لوگ بھی یہاں آباد ہیں۔ دستور پاکستان 1973 کے آرٹیکل 36 میں اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ، انکی وفاقی اور صوبائی سطح پر ملازمتوں میں نمائندگی کو ممکن و لازم بنانے کی ضمانت دی گئی۔ مذہبی اقلیتوں کی اگر بات کی جائے تو پاکستان میں سب سے زیادہ تعداد ہندوں کی ہے، دوسرے نمبر پر مسیحی برادری کی بڑی تعداد ہے جبکہ انکے علاوہ سکھ پارسی، بودھ اور کیلاش نمایاں ہیں۔ پاکستان میں بسنے والے ہر انسان کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی گزارے، ہمیں بھی سوچ بدلنی ہوگی کہ ہم ہر مذہب اور ہر فرقے کا احترام کریں۔

MINORITIES

Tabool ads will show in this div