‘اقلیتی کمیشن، احمدی رکن کوشامل کرنیکی اکثریت نے مخالفت کی’

نور الحق قادری کا ندیم ملک لائیو میں سنسنی خیز انٹرویو

وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کی اکثریت نے قومی اقلیتی کمیشن میں احمدیوں کے نمائندے کی شرکت کی مخالف کی۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں بدھ کو گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ ہم نے وفاقی کابینہ میں دو الگ الگ سمریاں بھجوائی تھیں، ایک 21 اپریل جبکہ دوسری 5 مئی کو بھیجی گئی، ان میں احمدی برادری کا ذکر تک نہیں کیا گیا تھا۔

قومی اقلیتی کمیشن میں احمدیوں کے نمائندے کی شمولیت کے کابینہ کے فیصلے سے متعلق خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی کابینہ کے 5 یا 6 ارکان نے احمدیوں کے نمائندے کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کی حمایت کی تھی، یہ معاملہ کابینہ میں زیر بحث آیا تاہم کابینہ کی اکثریت نے اس کی مخالفت کی، اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔

پاکستانی آئین کے تحت 1974ء میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔

نور الحق قادری کا کہنا ہے کہ میرا یقین ہے کہ احمدی دیگر اقلیتوں کی طرح نہیں ہیں، اسلام اور آئین پاکستان اقلیتوں کو تحفظ اور حقوق دیتا ہے، لیکن قادیاتی کوئی اقلیت نہیں ہیں، قادیاتی آئین پاکستان کو نہیں مانتے، انہیں حق نہیں کہ وہ کسی کمیشن (آئین پاکستان کے ذیلی ادارے) کا حصہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جب کابینہ میں اس حوالے سے بحث ہوئی تو میں نے ایک ہر سطح پر اس کی مخالفت کی تھی۔

نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ ہم تحقیقات کروائیں گے کہ کابینہ میٹنگ کے منٹس میں احمدیوں سے متعلق کس نے تبدیلی کی۔

وفاقی کابینہ نے 5 مئی کو وزارت مذہبی امور کی جانب سے بھیجی گئی سمری منظور کرتے ہوئے چیلا رام کو قومی اقلیتی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا جن کا تعلق سندھ کی ہندو برادری سے ہے۔

کمیشن میں بطور مسلم ارکان مفتی گلزار احمد اور مولانا عبدالخبیر کو شامل کیا گیا۔ ہندو اور عیسائی برادری سے تین، تین، سکھ اور کیلاش کمیونٹی سے 2، 2 ارکان کمیشن کا حصہ ہوتے ہیں جبکہ ایک رکن پارسی برادری سے ہوتا ہے۔

MINORITIES

Tabool ads will show in this div