کالمز / بلاگ

بیادِ مارکس

کارل مارکس چاہتاتھا کہ ہم سماجی بیڑیوں کوتوڑدیں
A statue of  German philosopher Carl Marx is seen in the building of the Corvinus University in Budapest on September 4, 2014. The 'Corvinus' was renamed in 1953 as Karl Marx University and it was a base of the country’s Marxist intellectual elite in the socialist era.   AFP PHOTO / ATTILA KISBENEDEK (Photo by ATTILA KISBENEDEK / AFP)
A statue of German philosopher Carl Marx is seen in the building of the Corvinus University in Budapest on September 4, 2014. The 'Corvinus' was renamed in 1953 as Karl Marx University and it was a base of the country’s Marxist intellectual elite in the socialist era. AFP PHOTO / ATTILA KISBENEDEK (Photo by ATTILA KISBENEDEK / AFP)

وہ کلیمِ بے تجلّی، وہ مسیحِ بے صلیب نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب

کچھ عرصہ قبل لندن جانے کا اتفاق ہوا۔ کئی تاریخی مقامات کی سیر سے لطف اندوز ہوئے۔ واپسی سے پہلے میں نے بیگم سے کہا کہ ہائی گیٹ قبرستان  کا بھی چکر لگا لیا جائے۔ بیگم، جو میری فضول کی خریداریوں سے عاجز آچکی تھی،انھوں نے پوچھا کہ وہاں ایسا کیا ملتا ہے؟ میں نے بتایا کہ ملتا تو کچھ نہیں ہے لیکن وہ ایک تاریخی قبرستان ہے اور لندن کے سیاسی اور سماجی ورثے کا اہم ستون تصور کیا جاتا ہے۔ جو بات میں نے بیگم کو نہیں بتائی وہ یہ تھی کہ اس قبرستان کے ایک حصے میں کارل مارکس کی قبر ہے۔ یہ بات میں نے اس لئے نہیں بتائی کہ میری کارل مارکس سے انسیت، بات بات پر اس کا حوالہ اور دنیا کو دیکھنے کا اکِ مخصوص زاویے نے مارکس کی حیثیت اس دوست کی کردی تھی جو شوہر کی تمام تر برائیوں کا ذمہ دار گردانا جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں اس رات کو ٹھیک سے سو نہ پایا اور میرے ذہن میں بار بار یہ خیال آتا رہا کہ اگر مارکس زندہ ہوتا تو اس کا اپنی قبر پر دی جانے والی حاضریوں کے متعلق کیا خیال ہوتا۔ کیا وہ چاہتا کہ لوگ جوق در جوق آئیں اور اس کی قبر پر دوچار پاؤنڈ کے پھول چڑھائیں؟ کیا وہ چاہتا کہ لوگ اس کو دیومالائی داستان کا ہیرو سمجھیں جس نے اپنے قلم سے اپنے دور کے شیاطین کے خلاف محاذ گرم کیا؟ مجھ ان سوالوں کا جواب نفی میں ملا، کارل مارکس تو چاہتا تھا کہ ہم ان سماجی بیڑیوں کوتوڑدیں کہ یہی رسومات جو کہ اب ہماری عادات بن چکی ہیں ہمارے استحصال کا باعث ہیں۔ اب لندن ہی کی مثال لے لیں، یہاں ملنے والے گلاب کے پھول افریقہ سے درآمد کئے جاتے ہیں اور سالانہ ان پر اربوں پاؤنڈ خرچ ہوتے ہیں، لیکن ان پھولوں کے عوض افریقہ کے غریب کاشتکاروں کو کیا ملتا ہے؟ شاید دو وقت کی روٹی بھی وہ ڈھنگ سے نہیں حاصل کر پاتے۔ دوسری طرف غور کریں کہ کارل مارکس اوراینجلز کے وارثوں نےاگر شاندار مزار کھڑے کر دئیے ہوتے اور سجادہ نشین ہو کربیٹھ جاتے تو آج اک آدھی اسمبلی کی سیٹ اور لاکھوں کروڑوں متعقدین کا ساتھ ہوتا۔ میں مزاروں اور ان پر جانے والوں کے بالکل خلاف نہیں ہوں بلکہ میں تو ہرجگہ اپنا تعارف مولانا حسرت موہانی کے اس شعر کے ساتھ کراتا ہوں کہ: ‏درویشی و انقلاب مسلک ہے میرا ‏صوفی مومن ہوں، اشتراکی مسلم میری نظر میں تو تمام صوفی بزرگ اشتراکیت پسند تھے۔ خرابا تو تب ہوا جب ان کی باقیات استحصال کا ذریعہ بنیں اور لوگوں نے ان کے نام پر فوائد حاصل کئے۔ آج بھی برصغیر پاک و ہند میں دیکھیں تو پتہ لگے کہ اپنے صوفی منش پرکھوں کے نام پر سرمایہ دار جانشینوں نے کیا کیا گل کھلائے ہیں۔ جاگیریں، سیاسی وسماجی مقام اور غریبوں کا خون چوسنے کی ایک نہ ختم ہونے والی بھوک ان کےوارثوں کی پہچان ہے۔ کارل مارکس نے اپنی تحریروں کے ذریعے کوشش کی ہم اپنے اوپر ہونے والے ظلم و جبر کو سمجھ سکیں۔ سرمایہ داری نظام ایک بھرپور مدافعت رکھنے والا نظام ہے، اس میں یہ صلاحیت ہے کے یہ اپنے آپ کو وقت اور حالات کے حساب سے ڈھال سکتا ہے۔ اس لئے آج پوری دنیا میں کہیں اس کی استعماری اور کہیں فلاحی شکل نظر آئے گی۔ لیکن اس کی بنیاد استحصال پر قائم ہے۔ ان غریب مزدوروں کا استحصال جو ہماری دنیاوی سہولتوں کے لئے صنعتوں اور کھیتوں میں ایندھن کی مانند جلتے اور ختم ہوجاتے ہیں۔ میں اس بحث میں نہیں الجھنا چاہتا کہ مارکس نے کیا صحیح کہا اور کیا غلط۔ میں اس بات کا بھی قائل ہوں کہ مارکس کا فلسفہ کامل نہیں ہے اور ہر علم کی طرح یہ بھی ارتقا کے تابع ہے۔ لیکن اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہونا چاہیے کہ مارکس نے دنیا، تاریخ، معاشیات، معاشرت کو سمجھنے اور پڑھنے کو ایک نئے طریقے سے متعارف کروایا۔ سماجی علوم کا شاید ہی کوئی شعبہ ہو جس پر مارکس کی گہری چھاپ نہ ہو۔ میں یہ بات بھی مانتا ہوں کہ جن ملکوں میں کمیونسٹ/سوشلسٹ طرز حکومت رہا ان میں فسطائیت اور ظلم وجبر کا دور دورہ رہا اور اگرمارکس ان حکومتوں کے قیام اور ان کےطریقے کو دیکھتا تو شاید ان کا سب سے بڑا نقاد ہوتا۔ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ میں مارکس کو مکمل طور پر سمجھ پایا ہوں اور اب دوسروں کو قائل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہو۔ آپ مارکس کے نظرئیے سے اختلاف رکھیں لیکن اس کو پڑھنے اورسمجھنے کے بعد۔ اگلے دن صبح میں نے بیگم سے کہا کہ سردی بہت ہے اس لئے باہر گھومنے سے اچھا ہے کہ مادام تساؤ چلتے ہیں تو اس نے پوچھا کہ اپنی مائی باپ کی قبر ہر حاضری لگانے نہیں جاؤ گے؟ میں نے تعجب کا اظہار کیا اور پوچھا کہ کیا تمہیں معلوم تھا کہ کیا مارکس ہائی گیٹ میں مدفون ہے، تواس نے مجھے بتایا کہ وہ مجھے سمجھ چکی ہے۔ میں نے رات کو آئے نئے خیالات سے آگاہ کیا تو اس نے کہا خیر ہوگئی، ہماری تہذیب کا حصہ ہے کہ جس سے عقیدت رکھیں اس کی قبر پر چکر لگالیں۔اس کے ساتھ ہی اس نے مجھ ہر طنز بھی کیا کہ صدیوں سے سید بنے بیٹھے ہو، اس طرح سوچو گے تو نقصان میں رہو گے۔خیر ہم بحث کے باوجود کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے اور بہتر یہی جانا کہ آوکسفورڈ اسڑیٹ جا کر سرمایہ داری نظام کو اپنی بساط کے مطابق بھر پور فائدہ پہنچائیں۔ 5 مئی کو کارل مارکس کا یوم پیدائش ہوتا ہے،آپ کہیں گے کہ سالگرہ منانا بھی تو سرمایہ داری نظام کا ہی خاصہ ہے۔ کارڈ، کیک اور پھول۔ لیکن میں کیا کرسکتا ہوں کہ بقولِ بیگم یہ سب بھی تو ہماری تہذیب کا حصہ ہیں۔ انقلاب زندہ باد
Tabool ads will show in this div