سپریم کورٹ کا لاپتہ 35 افراد کو کل صبح ساڑھے 10 بجے تک پیش کرنیکا حکم

اسٹاف رپورٹ


اسلام آباد : چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ملاکنڈ جیل سے لاپتہ 35 افراد کو کل صبح ساڑھے 10 بجے تک سپریم کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے، ملاکنڈ جیل سے لاپتہ افراد کے کیس کی سماعت میں انہوں نے ریمارکس دیئے کہ کوئی خود کو آئین سے بالاتر سمجھتا ہے تو اس کی غلط فہمی ہے، خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کل اچھی خبر دیں گے۔


سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کے دوران لاپتہ افراد کے معاملے پر وزیر دفاع کی سرزنش کی، 35 لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر عدالت نے ایک بار پھر برہمی کا اظہار کیا۔


خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے بات ہوئی کل رجسڑار کو اچھی خبردیں گے، کسی کمی بیشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ممکن ہے کچھ تعداد کم ہو۔


چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رجسٹرار جوڈیشل افسر نہیں خوشخبری ہمیں دیں، کل صبح ساڑھے 10 بجے تک عدالت کو تفصیلات فراہم کریں، اگر کوئی سمھجتا ہے آئین سے بالاتر ہے تو غلط فہمی ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ کل تمام لاپتہ افراد کو پیش کیا جائے کم تعداد کی بات نہیں مانیں گے، ہفتے اور اتوار کو بھی بیٹھنے کیلئے تیار ہیں۔


چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل نے پرسوں وقت لیتے ہوئے ٹھوس پیش رفت کی یقین دہانی کرائی تھی۔


اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ معاملے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی، صورتحال جوں کی توں برقرار ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آج سامنے آنے والے نئے 7 ناموں کی تفصیل بتائی جائے، یہ کن کی تحویل میں ہیں، اُنہیں کل طلب کرلیں گے۔


وزیر دفاع نے بتایا کہ فوج کے مطابق یہ لوگ ان کی تحویل میں نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اُنہیں سب پتہ ہے کون کہاں ہے؟۔ لاپتہ افراد کیخلاف ٹھوس شواہد ہیں تو قانون کے تحت کارروائی کرکے مثال قائم کریں۔


جسٹس جواد نے کہا کہ اب تک 3 میں سے صرف ایک نام سامنے لایا گیا، دو نام خفیہ رکھے گئے۔ اس سے پہلے وزیر دفاع نے ان کیمرہ سماعت کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ درخواست تب ہی قبول کریں گے جب لاپتہ افراد کو پیش کیا جائے۔ سماء

کا

MQM

کو

online

noc

Tabool ads will show in this div