انورمقصود نے ڈرامہ نہ لکھنے کی وجہ بتادی

ڈراموں کے ایسے ناموں کے بعد کیسے لکھ سکتاہوں

کرونا لاک ڈاؤن کے باعث شوبزسیلیبرٹیزکی جانب سے سوشل میڈیا پرلائیو سیشنز خوب پزیرائی حاصل کر رہے ہیں۔ایسے میں اسکرپٹ رائٹر، ٹی وی میزبان ، طنزومزاح نگار اور کبھی کبھار اداکاری کے بھی جوہردکھانے والے انورمقصود کے ساتھ سوال وجواب کا ایک لائیو سیشن ان کے مداحوں کیلئے قرنطینہ کے دوران زبردست ٹریٹ بن گیا۔

یہ لائیو سیشن انورمقصور کے صاحبزادے بلال مقصود نے انسٹا گرام پر رکھاتھا، بلال خود بھی معروف میوزیکل بینڈ اسٹرنگز سے تعلق رکھنے کے علاوہ بہت اچھے آرٹسٹ بھی ہیں۔

انور مقصود 70 اور 80 کی دہائی میں ڈرامہ نگاری کے حوالے سے پاکستان انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا بہت بڑا نام رہے ہیں لیکن اب وہ ڈرامہ لکھنا تقریبا ختم کرچکے ہیں۔

لائیو سیشن میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے آپ کیلئے 55 سال لکھا، کسی نے سوال کیاکہ آپ اب ڈرامہ کیوں نہیں لکھتے، میں نے جواب دیا کہ اشفاق احمد، بانو قدسیہ، انتظارحسین، فاطمہ ثریا بجا،منو بھائی نہیں لکھ رہے ہیں۔ سوال ہوا کہ یہ سب تو مرگئے ہیں جس پرمیرا کہنا تھا کہ یہ سب ڈرامہ اپنے ساتھ لے گئے ہیں، اب ڈرامہ نہیں ہے۔

انورمقصود نے موجودہ ڈراموں کے ناموں سے متعلق ناپسندیدگی کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس تم ہو، مجھے بیٹا چاہیے، ناممکن ، چیخ ۔۔۔ اب ان ناموں کے بعد میں کیسے لکھ سکتا ہوں ، یہ بہت معروف اور اچھے ڈرامے ہیں جو آپ لوگ پسند کرتے ہیں۔

ANWAR MAQSOOD

Bilal Maqsood

Tabool ads will show in this div