سانحہ بلدیہ : دبئی میں فیکٹری مالکان کا بیان قلمبند

JIT RECORD STATEMENTS KHI PKG 06-10

کراچی : سانحہ بلدیہ کی از سر نو تحقیقات کیلئے دبئی جانیوالی جے آئی ٹی نے فیکٹری مالکان کا باضابطہ بیان قلمبند کرلیا، ابتدائی حصے میں تعارف اور خاندانی پس منظر کا ذکر کیا گیا ہے، گزشتہ روز مالکان نے بھتہ طلب کئے جانے کا انکشاف بھی کیا تھا۔

سانحہ بلدیہ کی تحقیقاتی ٹیم کا دبئی میں دوسرا دن بھی مصروف گزرا، بھائیلہ برادران کے باقاعدہ بیانات قلمبند کرلئے گئے، مسلسل 2 گھنٹے تک ریکارڈ کئے جانیوالے بیان کی تفصیل 17 صفحات پر مشتمل ہے۔ ابتدائی صفحات میں دونوں بھائیوں نے اپنے تعارف اور خاندانی پس منظر کا ذکر کیا۔

ذرائع کے مطابق بھائیلہ برادران نے بتایا کہ 1947 میں آباؤ اجداد نے پاکستان ہجرت کی اور بعد میں علی انٹر پرائزز کے نام سے کراچی کے علاقے بلدیہ میں فیکٹری کھولی۔

فیکٹری مالکان کے مطابق 1997ء میں منصور نامی ایک شخص کو فیکٹری میں ملازمت دی، جس نے 2 سال بعد بنگالی ملازمین کو نکالنا شروع کردیا، گزشتہ دہائی میں منصور کا اثر ور سوخ کمپنی میں بہت بڑھ چکا تھا جبکہ اس کا کچھ ناپسندیدہ افراد سے بھی رابطہ تھا۔

گزشتہ روز دیئے گئے ابتدائی بیان میں فیکٹری مالکان نے بھتہ طلب کئے جانے کی تصدیق کی تھی۔ بلدیہ فیکٹری میں لگنے والی آگ تو 250 زندگیاں نگل کر بجھ گئی لیکن لواحقین کے دلوں میں آج بھی سلگ رہی ہے، جو صرف ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہی ٹھنڈی ہوگی اور اس کیلئے فیکٹری مالکان کا بیان انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ سماء

rauf siddiqui

JIT

factory fire

baldia town

Baldia Incident

Bhaila Brother Statement

Police Team

Tabool ads will show in this div