سینیئر صحافی نصر اللہ چوہدری باعزت بری

رہائی آج شام یا کل صبح متوقع
فوٹو: ٹویٹر
فوٹو: ٹویٹر
فوٹو: ٹویٹر

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی نصر اللہ چوہدری کو باعزت بری کر دیا۔

بدھ 8 اپریل کو مبینہ ممنوعہ لٹریچر رکھنے کے کیس میں سینیئر صحافی نصر اللہ چوہدری کی سزا کےخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ نصر اللہ چوہدری کی جانب سے محمد فاروق ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

محمد فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ بنیادی قانون کے اصول کے برخلاف ہے۔ وکیل صفائی نے کہا کہ سینئر صحافی کو غیر قانونی حراست میں رکھ کر 3 دن بعد گرفتاری ظاہر کی گئی جبکہ شواہد تو درکنار ایف آئی آر ہی قانون کے برخلاف اور غیر قانونی ہے۔

محمد فاروق ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ غیر قانونی حراست پر عالمی سطح پر خبریں بطور ثبوت موجود ہیں۔

سینیرصحافی نصراللہ کی گمشدگی،اہلیہ سندھ ہائیکورٹ پہنچ گئیں

نصر اللہ چوہدری کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ سی ٹی ڈی نے تین روز تک غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں نامزد کیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا جبکہ ان کےخلاف ممنوعہ لٹریچر سے متعلق کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

نصر اللہ چوہدری کی درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج منیر بھٹو نے 26 دسمبر 2019 کو ان کی غیر قانونی حراست کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے سزا سنائی۔ سزا کو کالعدم قرار دے کر باعزت بری کیا جائے۔

نصر اللہ چوہدری کو جیل سے رہائی 8 اپریل کی شام یا 9 اپریل کی صبح ملے گی۔

JOURNALIST

Tabool ads will show in this div