محفوظ انتقال خون؛ ایک مسئلہ، ایک پریشانی

Blood1

پاکستان میں محفوظ، معیاری اور صاف خون کا حصول مشکل ہوچکا ہے جس کی بنیادی وجوہات حکومت کی عدم دلچسپی اور عوام میں عطیہ خون کا فقدان ہے، عام طور پر لوگوں میں تاثر ہے کہ خون دینے سے انسان کمزور ہوجاتا ہے یا خدانخواستہ کوئی بیماری لگ سکتی ہے جبکہ اس کے برعکس طبی ماہرین عطیہ خون کو صحت کیلئے مفید قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک صحتمند انسان ہر 3 ماہ بعد سال میں 4 مرتبہ خون کا عطیہ دے سکتا ہے اور یہ سلسلہ 40 سال کی عمر تک مسلسل جاری رکھا جاسکتا ہے۔

عطیہ کی گئی خون کی ایک بوتل بیک وقت 3 انسانوں کی جان بچانے کیلئے کارآمد ہوسکتی ہے، جو نا صرف صدقہ جاریہ ہے بلکہ قرآنی احکامات کی بھی تائید ہے جیسا کہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ ’’جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا کہ اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی‘‘۔ اگر ہم ملکی سطح پر دیکھیں تو معاشرے میں عطیہ خون کا رحجان زیادہ ہونے کی بجائے کم ہوتا جارہا ہے، جس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے، اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ميں سالانہ 30 لاکھ خون کی بوتلوں کی ضرورت پڑتی ہے ليکن بمشکل 15 لاکھ تک رضا کاروں سے جمع ہو پاتی ہيں، مریضوں کو قریباً 3 فیصد تک عزیز و اقارب سے خون مل جاتا ہے، ہمارے ہاں خون عطيہ کرنے کی مجموعی شرح ايک سے 3 فيصد ہے، ترقی يافتہ ممالک ميں يہ 39 فيصد کے لگ بھگ ہے۔

Blood5

دوسری جانب پاکستان ميں تمام عمر دوسروں کے خون پر زندہ رہنے والے تھيليسيميا کے 5 ہزار اور بلڈ کينسر کے 6 ہزار مريضوں کا ہر سال اضافہ ہورہا ہے۔ ادھر اسپتالوں کی ايمرجنسی ميں لائے جانيوالے تقريباً 10 ہزار افراد کو خون کی اشد ضرورت رہتی ہے۔ سالانہ بڑھتے ہوئے ہيپا ٹائٹس کے ڈھائی لاکھ جبکہ مليريا اور ڈينگی سے متاثرہ ہزاروں مريض الگ ہيں جنہیں ہمہ وقت خون کی ضرورت رہتی ہے۔ کينسر اور ہيمو فيليا سميت ديگر مہلک بيماريوں ميں مبتلا لاکھوں مريض ہمیشہ خون کے عطيہ کے ہی منتظر رہتے ہيں۔ پاکستان ميں محفوظ انتقال خون کی صورتحال کا اندازہ اس سے لگايا جاسکتا ہے کہ ابھی تک سوائے پنجاب کے کہیں بھی محفوظ انتقال خون کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے کوئی متحرک ادارہ موجود نہیں۔

پنجاب جيسے بڑے صوبے ميں 1999ء ميں بلڈ ٹرانس فيوژن اتھارٹی تو بنادی گئی لیکن گزشتہ 16 سال سے وہ بھی مکمل فعال نہيں ہوسکی، کارکردگی یہ ہے کہ 500 کے لگ بھگ درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے صرف ابھی تک 50 بلڈ بینکس کو قانونی دائرہ کار ميں لايا جاسکا جبکہ سرکاری ذرائع کے مطابق صوبے ميں 2 ہزار کے قريب غير قانونی بلڈ بینکس کام کررہے ہيں، بدقسمتی سے ان کے چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نظام نہیں ہے۔

Blood4

سرکاری بلڈ بینکس کی صورتحال بھی ناگفتہ بہ ہے جن کی بہتری کیلئے 2011ء میں 46 کروڑ روپے کی لاگت سے منصوبہ تو بنایا گیا مگر صرف 8 کروڑ روپے خرچ ہوسکے اور وہ بھی مشینری ایک سال میں ہی جواب دے گئی، باقی ماندہ 38 کروڑ روپے کا کوئی اتہ پتہ ہی نہیں۔

Blood2

دوسری جانب بلڈ اسکريننگ کيلئے سرکاری اسپتالوں کے بلڈ بینکس میں فی ٹیسٹ 15 سے 20 روپے مختص ہيں جبکہ صحیح محفوظ انتقال خون کيلئے  10 سے 15 ہزار روپے بلڈ اسکريننگ پر خرچہ آتا ہے۔ يہي وجہ ہے کہ غيرمعياری اور ناقص انتقال خون کی وجہ سے لوگوں کے ايڈز اور ہيپاٹائٹس جيسے مہلک امراض ميں مبتلا ہونے کی شرح ميں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی گائيڈ لائن کے مطابق ايڈز اور ہيپاٹائٹس سميت ديگر 5 مہلک امراض سے بچاؤ کيلئے بلڈ اسکريننگ ضروری ہے لیکن پاکستان میں شاید ہی ان گائیڈ لائنز پر عملدرآمد ہورہا ہے۔ قوم کو بیماریوں سے بچانے کیلئے حکومت کو سیف بلڈ کیلئے ہنگامی اور عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے بلکہ عوام میں عطیہ خون کا شعور بھی بیدار کرنا ہوگا تاکہ صحتمند خون لوگوں کو میسر آسکے۔

HEALTH

Safe Blood for All

Blood Donation

Blood Donner

Blood Transplant

Blood Banks

Blood Test

Blood Donation Drive

Hepatitis

Tabool ads will show in this div