گروسری کی قیمتوں میں مزیداضافے کا خدشہ ہے، ہول سیلرز

اناج بندرگاہ پر موجود
Apr 03, 2020

کراچی کے بندرگاہ پر اناج اور کنولا آئل سے بھرے کنٹینر کئی دن سے کھڑے ہیں۔ امپورٹرز اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے امپورٹ ڈیوٹی میں 2 فیصد کمی کا اطلاق ہوجائے تاکہ وہ ٹیکسز ادا کرکے اپنے کنٹینرز کلیئر کروالیں۔

کراچی ہول سیل گروسری ایسویشن کے سربراہ انس مجید کا کہنا ہے کہ اگر میں آج ہی اناج اور کنولا آئل خریدوں تو مجھے بھاری ٹیکس دینا پڑے گا۔ اگر کل حکومتی اعلان پر عمل ہوجائے تو مجھے کیا ریلیف ملے گا۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کے بعد ایک سرکاری نوٹی فکیشن جاری کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد بورڈ منظوری دیتا ہے اور اس فیصلے کا نفاذ ہوتا ہے۔ امپورٹرز نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے تیزی نہ دکھائی تو اشیائے خورونوش کی قلت ہوسکتی ہے اور قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔

انس مجید کا کہنا ہے کہ فی الوقت قیمتوں میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔ ممکنہ قلت کے پیش نظر پورٹ پر اناج اور آئل سے بھرے ٹرکوں کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

آٹا

کراچی آٹا چکی ایسوسی ایشن کے چیئرمین انس شاہد کا کہنا ہے کہ فی الوقت آٹے کی فی کلو قیمت 60 سے کم ہوکر 55 روپے پر آگئی ہے۔ مگر مزدوروں کے چھٹی پر جانے کے باعث ملیں بند ہوگئی ہیں جس کے باعث طلب کے مطابق رسد ممکن نہیں ہے۔

انس شاہد نے بتایا کہ انہوں نے اپنی چکی چلانے کیلئے دو مزدوروں کو ان کے گاؤں سے بلایا اور اس کیلئے پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کا اہتمام کیا۔ فلور ملز اور چکی مالکان بھی حکومت اجازت کے منتظر ہیں تاکہ وہ معمول کے مطابق کام شروع کریں تاکہ قلت پیدا نہ ہوجائے۔

سبزی اور فروٹ

کراچی سبزی منڈی کے وائس چیئرمین آصف احمد نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے باوجود سبزی اور فروٹ کی ڈیمانڈ اور سپلائی معمول کے مطابق ہے۔ اس لیے قیمتوں پر اثر نہیں پڑا۔

آصف احمد نے بتایا کہ مارکیٹیں بند ہونے کے باعث چھوٹی دکانوں اور ریڑھی پر سبزی فروٹ کی فروخت 50 فیصد کم ہوئی ہے مگر سپر اسٹور نے یہ کسر پوری کردی ہے۔ لوگ ان اشیا کے لیے بھی سپر اسٹور جانے لگے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر سپراسٹورز نے قیمت بڑھائی تو یہ ہماری ذمہ داری نہیں۔ ہماری قیمتیں معمول کے مطابق ہیں۔

آن لائن سبزی فروخت کرنے والے نوید کریم نے بتایا کہ تمام اشیا گزشتہ ماہ کی قیمتوں پر فروخت ہورہی ہیں۔ جو قیمتیں دو مارچ کو تھیں، وہی دو اپریل کی بھی ہیں۔

ڈیری پروڈکٹس

کراچی ملک ہول سیلر ایسوسی ایشن کے ترجمان حاجی رفیق نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے باعث دودھ کی سپلائی چین پوری طرح معطل ہوگئی ہے۔ فارمرز اب بھی تین ماہ پرانی قیمت پر سپلائی کر رہے ہیں مگر ہول سیلر پرانی قیمت سے سستا بیچ رہے ہیں۔ کیوں کہ ڈھابے، ہوٹلز اور سویٹس شاپس بند ہونے سے ان کی ڈٰیمانڈ ختم ہوگئی ہے۔

ادویات

ہول سیل کیمسٹ کونسل آف پاکستان کے صدر عاطف حنیف بلو نے بتایا کہ ریٹیل مارکیٹ میں قیمتوں میں جو آضافہ ہوا وہ سپلائی نہ ہونے کے باعث تھا۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی حفاظتی اسپرے کلورکین اگر ہمیں پیچھے کارخانوں سے نہیں مل رہی تو ہم کیسے سپلائی کریں گے۔

عاطف حنیف بلو کے مطابق عام ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ممکن ہے کیوں کہ کرونا وائرس کی علامات میں سردرد، بخار، گلے میں درد اور کھانسی بھی شامل ہے اور لوگ یہی ادویات استعمال کریں گے۔ جلد ہی پیناڈول اور ڈسپرین بھی مارکیٹ میں ختم ہوجائے گی۔

کمشنر کراچی کے پرائس کنٹرول یونٹ کے انچارج نعیم بیگ نے کہا کہ عالمی وبا کی روک تھام کیلئے دوسری سرگرمیوں میں مصروف ہونے کے باعث حکام ریٹیلرز پر نظر نہیں رکھ پا رہے۔

LOCK DOWN

GROCERIES

Tabool ads will show in this div