کرونا کاشکار نرس کا نجی اسپتال کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

علاج کے بجائے چھٹی پر جانے کا مشورہ دیا

پشاور میں کررونا وائرس سے متاثرہ نرس نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹیسٹ رپورٹ مثبت آںے کے بعد اسپتال نے انہیں بے یارومددگار چھوڑ دیا پے جبکہ اسپتال انتظامیہ نے نرس کے الزامات کی تردید کردی ہے۔

چترال سے تعلق رکھنے والی ارم بی بی  گزشتہ ایک سال سے پشاور کے معروف نجی اسپتال نارتھ ویسٹ جنرل اسپتال) میں اسٹاف نرس کی ملازمت کررہی ہے۔ اسپتال نے اس کی ڈیوٹی کرونا وائرس اسکرینگ سیکشن پر لگائی تھی۔

سماء ڈیجیٹل کو ارسال کی گئی ویڈیو میں متاثرہ نرس نے الزام لگایا طبیعت بگڑنے پرجب اسپتال انتظامیہ کو بتایا تو انہوں نے ٹیسٹ کروانے کی بجائے الٹا بغیر تنخواہ چھٹی پر جانے کا مشورہ دیا۔

ارم بی بی نے بتایا کہ وہ اسپتال کے سی ای او کے پاس بھی گئی مگر انہوں نے بھی وہی مشورہ دیا۔ جس پر میں اپنا ٹیسٹ کروانے چلی گئی۔ جب ٹیسٹ مثبت آیا تو اسپتال انتظامیہ نے مجھے گیٹ پر روک دیا جس پر میں نے شور شرابہ کیا تو انتظامیہ نے ایمبولنس میں مجھے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس بھیج دیا۔

متاثرہ نرس نے صوبائی حکومت سے نجی اسپتال کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو نجی اسپتال ذمہ دار ہوگا۔ انہوں نے دیگر اسٹاف کے ٹسٹ کروانے کا بھی مطالبہ کیا کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ وائرس کی وجہ سے دیگر طبی عملہ بھی متاثرہوسکتا ہے

دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ نرس کی اپنی مرضی کے مطابق ان کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کردیا گیا تھا۔ نجی اسپتال کی انتظامیہ نے یہ بھی واضح کردیا کہ نرس ارم بی بی کی صحتیابی کے بعد وہ اپنی ڈیوٹی پر آئیں گی اور اس کی تنخواہ بھی ادا کردی  جائے گی۔

واضح رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے اب تک خیبرپختونخوا  میں 2 نرسز کے ٹسٹ پازیٹیو آچکے  ہیں جبکہ 8 مزید نرسیں مشتبہ مریضوں میں شامل ہیں۔

NURSE

Tabool ads will show in this div