آن لائن ٹرانسپورٹ سروس بھی بند کرنے کا اعلان

ایئرلفٹ آپریشن 6اپریل تک معطل، کریم بس سروس بھی بند
فوٹو : ایئرلفٹ
فوٹو : ایئرلفٹ
فوٹو : ایئرلفٹ

کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے آن لائن ٹرانسپورٹ سروسز بھی بند کرنے کا اعلان کردیا گیا، پاکستان میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت مردان میں رپورٹ ہوگئی جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد تقریباً 300 تک پہنچ چکی ہے۔

کرونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے، شادی ہالز، شاپنگ مالز، مارکیٹیں اور مزارات بند کردیئے گئے ہیں، دفعہ 144 کے تحت اجتماعات، ریلیوں، جلسوں، جلوسوں پر بھی پابندی لگائی جاچکی ہے، کئی دفاتر میں ملازمین کو چھٹیاں دے کر گھروں سے کام کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔

ایئر لفٹ

آن لائن بس اور وین سروس فراہم کرنیوالے ادارے ایئر لفٹ نے 6 اپریل تک کراچی اور لاہور میں اپنی تمام سروسز معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنا ہے۔

لوگوں کی جانب سے بک کرائی گئی رائیڈز بدھ کو معمول کے مطابق فراہم کی گئیں، تاہم اس کے بعد کی گئی پیشگی بکنگ کی رقم صارفین کو ری فنڈ کردی جائے گی۔

کریم

ٹرانسپورٹ سروس کریم نے وبائی صورتحال کے پیش نظر حکومتی ہدایات کے مطابق اپنی بس سروس عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم پاکستان بھر میں دیگر سروسز بدستور جاری رہیں گی۔

ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کریم استعمال کرنیوالوں کی حفاظت اور خیال رکھنا ہماری اولین ذمہ داری ہے، ہماری کووڈ19 رسپانس ٹیم حالات کو بغور جائزہ لے رہی ہے اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہدایات پر سختی سے عمل پیرا ہے، ساتھ ہی تازہ ترین صورتحال کیلئے مقامی حکومت اور پبلک ہیلتھ حکام سے بھی رابطے میں ہیں۔

کریم کے کمیونیکیشن ہیڈ کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے کپتان اور صارف کی حفاظت کیلئے احتیاطی تدابیر تیار کرلی ہیں، فی الحال خدمات کی معطلی ضروری سمجھتے۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کی کئی ریسٹورانٹس کی بندش اور ملازمین کے گھروں سے کام کرنے کے باعث طلب میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔

ایس ڈبلیو وی ایل. سیول

سیول حکام کے مطابق انہوں نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کیلئے اقدامات کرلئے ہیں۔ جنرل منیجر شاہزیب میمن کا کہنا ہے کہ ہم اپنی تمام بسوں میں ہینڈ سینیٹائزر لگاچکے ہیں، بسوں کی تعداد بھی نصف کردی ہے۔

سیول کے مطابق پاکستان میں 70 ہزار صارف ہماری سروس استعمال کرتے تھے تاہم اب یہ تعداد نصف رہ گئی ہے، یہ اقدام صارف کیلئے زیادہ گنجائش یقینی بنائے گا جس سے قریبی رابطے کا امکان انتہائی کم ہوجائے گا۔

بائیکیا

بائیکیا نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کرونا وائرس کے خوف کے باعث ان کی طلب میں بھی 15 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ دانش نامی ایک کارکن کا کہنا ہے کہ ہم نے تاحال کوئی اقدام نہیں اٹھایا کیونکہ ہماری سروسز کے دوران وائرس کے پھیلاؤ کا امکان انتہائی کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریسٹورانٹ کی بندش کی وجہ سے ڈلیویری سروسز اور اپنی عوامی خدمات فراہم کرتے رہیں گے۔

اوبر

اوبر کے حیدر بلگرامی کا کہنا ہے کہ ہم کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے تمام صارفین کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے مسلسل کام کررہے ہیں، اوبر سیکیورٹی اور سیفٹی ایگزیکٹو کی ایک عالمی ٹیم کو وقف کر رکھا ہے جو طبی ماہرین کی رہنمائی میں ضرورت کے مطابق ہر مارکیٹ میں کام کررہی ہے۔

بلگرامی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ہم مقامی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں ساتھ ہی ان کی ہدایات پر بھی عمل کررہے ہیں۔

Tabool ads will show in this div