کروناوائرس: ظاہری اسباب کااختیار کرنابھی اللہ پرتوکل ہے

صدقہ، نماز، دعا اور ظاہری اسباب سنت ہیں، مولاناطارق جمیل
Mar 18, 2020

مولانا طارق جمیل نے کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے حکومتی احکامات پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں سے گزارش کرتا ہوں کہ خوف دل سے نکال کر اللہ پر اعتماد کریں، ظاہری اسباب کا اختیار کرنا بھی توکل علی اللہ ہے، صدقہ، نماز، دعا اور ظاہری اسباب سنت رسول ﷺ ہیں۔

معروف عالم دین اور مبلغ مولانا طارق جمیل نے سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کیلئے شرعی تعلیمات پر روشنی ڈالی۔

ان کا کہنا تھا کہ نبی ﷺ کی تعلیمات کی بنیاد اللہ پر توکل اور بھروسہ ہے، زمین پر جو بھی حالات آتے ہیں وہ اللہ کی طرف سے آتے ہیں، لوگوں کو خوف دل سے نکال دینا اور اللہ پر اعتماد رکھنا چاہئے، آدمی بیماری سے نہیں اللہ کی رضا سے مرتا ہے، انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کتنے ہی بیمار زندہ رہتے ہیں اور تندرست مر جاتے ہیں۔

معروف عالم دین نے کرونا وائرس کو آسمانی آفت قرار دیا، ان کا کہنا ہے کہ سب سے کہوں کا اللہ کی طرف رجوع اور توبہ و استغفار کریں۔

مولانا طارق جمیل نے بیماری اور کسی بھی مشکل صورتحال سے نکلنے کیلئے نبی کریم ﷺ کی احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پہلا: بیماروں اور اہل خانہ کیلئے اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ دیا جائے۔ دوسرا: نمازوں کا اہتمام کیا جائے۔ تیسرا: خصوصیت کے ساتھ دعا کی جائے۔ چوتھا: ظاہری اسباب (ادویات اور ضروری اقدامات) کو اختیار کرنا بھی توکل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ کرونا وائرس سے بچنے کیلئے ڈاکٹروں اور حکومت کی دی گئی ہدایات پر عمل کریں، سلام کرنا سنت اور مصافحہ کرنا مستحب ہے، مصافحے اور بغل گیر ہونے سے مرض پھیلتا ہے تو اس سے اجتناب کرنا چاہئے، حکومت کی جانب سے بنائے گئے قواعد پر عمل کرنا ضروری ہے، اگر حکومت باجماعت نماز پر بھی پابندی لگادے تو اس پر بھی عمل کرنا چاہئے، وباء سے بچنے کیلئے نماز جمعہ پر پابندی بھی جائز ہے۔

ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیز بارش پر اعلان کروایا کہ سارے لوگ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں جان کا خطرہ نہیں تھا صرف آنے جانے میں تکلیف تھی جس سے بچانے کیلئے یہ اعلان کروایا، یہاں جان اور دیگر تکالیف کا خطرہ ہے، اس صورتحال میں مسجد میں نہ جانے کی زیادہ گنجائش موجود ہے۔

مولانا طارق جمیل نے حکومت وقت کی ہدایت پر عمل کرنے سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے ایک واقعہ سنایا کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک عورت طواف کررہی تھی جسے کوڑھ کا مرض تھا، آپ نے دیکھا تو کہا کہ تم گھر میں رہو طواف کیلئے نہ آیا کرو۔ حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد خاتون کی بیٹی نے کہا کہ اب عمرؓ نہیں رہے جاکر طواف کرو، تو انہوں نے کہا کہ جس اللہ کیلئے انہوں نے کہا تھا وہ تو موجود ہے لہٰذا میں نہیں جاؤں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیرت النبیﷺ میں قیامت تک جتنے بھی حالات آئیں گے اس کیلئے رہنمائی اور راستہ موجود ہے، حدیث میں ہے کہ جہاں وباء پھیل جائے، وہاں کوئی جائے اور نہ باہر آئے۔

کرونا وائرس سے بچاؤ کی دعا سے متعلق سوال پر مولانا طارق جمیل نے کہا کہ دعا پڑھنے کا نہیں مانگنے کا نام ہے، اس میں عاجزی اور انکساری ہونی چاہئے، جب مانگنے کی کیفیت، بے بسی، عاجزی ہوگی تو کسی بھی زبان میں مانگی جائے اللہ کے عرش کو ہلا دیتی ہے۔

مخصوص دعا کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یونس علیہ السلام کی مچھلی کے پیٹ میں پڑھی گئی دعا آیت کریمہ کا کثرت سے ورد کیا جاسکتا ہے جبکہ چھوٹے بچوں، ضعیف افراد اور شدید بیمار لوگوں کو سورۃ فاتحہ پڑھ کر پانی پر دم کرکے پلایا جاسکتا ہے۔

Tariq Jameel

Tabool ads will show in this div