نئی مانیٹری پالیسی کااعلان، شرح سود میں انتہائی معمولی کمی

شرح سود 75بیسز پوائنٹس کمی کے بعد 12.5فیصد کردیا گیا
فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے دو ماہ کیلئے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، شرح سود میں انتہائی معمولی کمی کی گئی ہے، نئی مانیٹری پالیسی کے مطابق 75 بیسز پوائنٹس کمی کے بعد شرح سود 12.5 فیصد کردیا گیا۔ اگست 2019ء سے ملک میں شرح سود 13.25 فیصد پر برقرار تھی۔

شرح سود افراط زر کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیا جاتا ہے، کرونا وائرس کے باعث دنیا بھر کی مارکیٹس کی انتہائی خراب صورتحال کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ پاکستان میں بھی شرح سود میں 3 فیصد (300 بیسز پوائنٹس) کی کمی کردی جائے گی۔

معاشی ماہرین نے شرح سود میں انتہائی معمولی کمی کو اونٹ کے منہ میں زیرہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی انتظامیہ کو تبدیل کیا جائے۔

گزشتہ تین سال میں شرح سود میں کمی نہیں آئی بلکہ صرف اضافہ ہوا ہے، جون 2017ء میں شرح سود 5.75 فیصد تھا جو کہ 25 سال میں سب سے کم تھا اور یہ کمی 2016 میں ہوئی تھی۔

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی سے متعلق معاشی ماہرین کی مختلف آراء بھی سامنے آئی ہے۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر معاشیات اور معاشی رابطہ کمیٹی کے سابق رکن ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ ہمیں اپنی طلب بڑھانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ معیشت کی بنیاد یہی ہے اور یہ صرف تب ہی ممکن ہے جب صنعتوں کےلیے پیسے کا حصول سستا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کا اتفاق رائے یہی ہے کہ تقریباً 0.75 فیصد تک شرح سود کم کی جائے گی لیکن میری رائے کے مطابق 2 فیصد سے زیادہ کم کرنا چاہئے کیونکہ اگر بےروزگاری بڑھے گی تو لوگوں میں قوت خرید کم ہو جائے گی۔

ڈاکٹر فرخ سلیم نے مزید کہا ہے کہ خود امریکا نے بھی شرح سود صفر کردی ہے اور بینک آف انگلینڈ نے بھی شرح سود گرا کر 0.25 فیصد کر دیا ہے جبکہ آسٹریلیا کا ریزرو بینک بھی انکے نقش قدم پر ہے۔

ماہر معاشیات اور کرنچ بیس کے سی ای او مزمل اسلم نے کہا کہ صاف ظاہر ہے کہ ریٹ دو سے ڈھائی فیصد تک نیچے گرنے کے امکانات ہیں کیونکہ افراط زر بھی توقع سے زیادہ قابو میں ہے۔

پاک کویت انویسٹمنٹ کے اسسٹنٹ نائب صدر ریسرچ عدنان سمی کا کہنا تھا کہ شرح سود 0.50 فیصد سے زائد نہیں گرنی چاہیئے کیونکہ ہمارے ایکسپورٹ سیکٹر کی مارکیٹ کرونا وائرس کے باعث بہت کم ہوگئی ہے تو جب تجارت نہیں ہوگی تو مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوگا لہٰذا اس وجہ سے عجلت میں پڑنے کی ضروت نہیں۔

ٹیکسٹائل سیکٹر کو یورپی مارکیٹس کی بندش کی وجہ سے بہت بڑا دھچکا لگا ہے جس کے منفی و دو رس نتائج ہوننگے۔

انٹرمارکیٹ سیکیورٹیز کے رضا جعفری کہتے ہیں کہ عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ ریٹ رفتہ رفتہ نیچے آتا ہے لیکن کرونا وائرس کے باعث عالمی مارکیٹ کے حالات تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں۔ اس لیے ہمیں بھی توقع سے زیادہ شرح سود کم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم نے دیکھا کہ مصر جیسے ملک نے بھی شرح سود 3 فیصد تک گرا دی ہے۔

اسٹینڈرڈ کیپٹل سیکورٹیز کے ایک سینیئر اسٹریٹجسٹ فیصل شاہ جی کہتے ہیں کہ ہمیں اس وقت شرح سود میں کمی لانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ تجارت، انڈسٹری اور مارکیٹ کی صورتحال کو بہتر کیا جا سکے اور یہ اس وقت عالمی ٹرینڈز کے عین مطابق بھی ہے۔

Tabool ads will show in this div