پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد 28 ہوگئی

وزیر خارجہ اور مشیر صحت نے تصدیق کردی
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/03/SAWALRPT-SHAH-MEHMOOD-BPR-13-03.mp4"][/video]

پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد 28 ہوگئی، وزیر خارجہ اور مشیر صحت نے تصدیق کردی۔ شاہ محمود قریشی نے سماء کے پروگرام سوال میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بین الاقوامی پروازوں کو کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ایئرپورٹس تک محدود کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کورونا وائرس سے متعلق اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنادی گئی، جس کا پہلا اجلاس کل ہوگا، اولین ترجیح مہلک مرض کو پھیلنے سے روکنا ہے۔

سماء کے پروگرام سوال میں عنبر شمسی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت تک ملک بھر میں کورونا وائرس کے صرف 28 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ جس پر اینکر نے ان سے سوال کیا کہ ابھی تک نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ 21 کیسز رپورٹ کررہا ہے، تاہم شاہ محمود قریشی نے واضح الفاظ میں بتایا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 28 ہے۔

مزید جانیے : یوم پاکستان کی پریڈمنسوخ، مدارس سمیت تعلیمی ادارے بندرکھنے کافیصلہ

وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان میں بین الاقوامی پروازوں کی آمد و رفت تین ہوائی اڈوں تک محدود کردی گئی ہے، جن میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد شامل ہیں، حکومت ایئرپورٹس پر ہیلتھ ڈیسک کی تعداد میں اضافہ کرے گی، پاکستان آنیوالے تمام مسافروں کو اسکریننگ کے عمل سے  گزرنا پڑیگا۔

شاہ محمود قریشی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ملک بھر میں اب تک 9 لاکھ افراد کی اسکریننگ کی جاچکی ہے، حکومت نے کورونا وائرس کے خطرے پر قابو پانے کیلئے بروقت اقدامات کئے ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ حکومت نے افغانستان اور ایران سے متصل مغربی سرحد کو 15 روز کیلئے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مہلک مرض کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 28 ہوگئی، تاہم انہوں نے مریضوں کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

یہ بھی پڑھیں : کورونا کا خوف، سندھ بھر میں عوامی اجتماعات پر پابندی

ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی میں اہم فیصلے کئے گئے، آج ہونیوالے فیصلوں کا اطلاق ملک بھر میں ہوگا، کورونا وائرس کے حوالے سے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کا کنوینر مشیر صحت ہوگا۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید کہا کہ کمیٹی کا پہلا اجلاس کل میری سربراہی میں ہوگا، ہماری پہلی کوشش کورونا کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

پریس کانفرنس سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ذمہ دار حکومت اپنے لوگوں کو محفوظ رکھنے کیلئے فیصلے کرتی ہے، تفتان بارڈر کو مکمل طور پر فوری بند کیا جائے گا، چمن بارڈر پہلے ہی بند کیا جاچکا ہے، ایران کے شہر زاہدان میں 6 ہزار سے زائد زائرین موجود تھے، واپس آنیوالے زائرین کو 14 دن قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، زائرین کی مکمل ذمہ داری صوبائی حکومت کے حوالے کی جارہی ہے، وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی ہر مدد کرے گی، نیشنل کو آرڈینیشن کمیٹی مناسب وقت پر مناسب فیصلے کرے گی۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید بتایا کہ تمام بڑے عوامی اجتماعات اور شادی ہالز میں تقریبات پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے، ہر طرح کی تعلیمی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی، تین ہفتوں کیلئے جیلوں میں قیدیوں سے ملاقات پر بھی پابندی ہوگی۔

مزید جانیے : کورونا وائرس، کن ممالک میں کتنے متاثرین ہیں؟

مشیر صحت نے عوام کو تنبیہ کی ہے کہ بعض لیبارٹریوں کے سستے ٹیسٹ سے اجتناب کیا جائے، تفتان میں موبائل لیبارٹری قائم کی گئی ہے، نئے کیسز تفتان بارڈر پر رپورٹ ہوئے، جہاں 7 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے، تھیلیسیمیا کے مریض بچے اور خاتون کا ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے۔

 دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 5100 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار افراد متاثر ہیں، دنیا بھر میں 70 ہزار سے زائد مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے یورپ کو مہلک مرض کے پھیلاؤ کا مرکز قرار دے دیا ہے، جبکہ ایرانی حکومت نے فوج کو سڑکیں اور مارکیٹیں خالی کرانے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

ShahMehmoodQureshi

Tabool ads will show in this div