نيب نے جیواور جنگ کے مالک کو گرفتار کرليا

پلاٹس پر غیر قانونی رعایت لینے کا الزام

نیب نے جیو اور جنگ گروپ آف نیوز پیپرز کے مالک میر شکیل الرحمن کو آج 12 مارچ کو لاہور سے گرفتار کرلیا ۔

نیب حکام نے میر شکیل الرحمان کے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہیں کل (جمعہ کو) عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔

میر شکیل الرحمن پر مختلف الزامات کے علاوہ یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے 54 پلاٹس پر غیر قانونی رعایت حاصل کی۔

میر شکیل الرحمن کو اطمینان بخش جواب نہ دینے پر آج نیب کی جانب سے طلب کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے میر شکیل الرحمن 5 مارچ کو نیب میں 2 گھنٹے زیرتفتیش رہے تھے۔

جیوز نیوز کے مطابق ترجمان جنگ گروپ کا کہنا ہے کہ یہ پراپرٹی 34 برس قبل خریدی گئی تھی جس کے تمام شواہد نیب کو فراہم کردیے گئے تھے جن میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے قانونی تقاضے پورے کرنے کی دستاویز بھی شامل ہیں۔

ترجمان جنگ گروپ کا کہنا ہے کہ میر شکیل الرحمان نے یہ پراپرٹی پرائیوٹ افراد سے خریدی تھی، میر شکیل الرحمان اس کیس کے سلسلے میں دو بار خود نیب لاہور کے دفتر  میں پیش ہوئے، دوسری پیشی پر میر شکیل الرحمان کو جواب دینے کے باوجود گرفتار کر لیا گیا، نیب نجی پراپرٹی معاملے میں ایک شخص کو کیسےگرفتار کر سکتا ہے؟ میر شکیل الرحمان کوجھوٹے، من گھڑت کیس میں گرفتارکیاگیا، قانونی طریقے سے سب بےنقاب کریں گے۔

جیو نیوز سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر صحافی نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں بتایا کہ حکومت نے گزشتہ چار ماہ سے جنگ گروپ کو اشتہارات دینا بند کر رکھے ہیں، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ دونوں جنگ میڈیا گروپ کیخلاف ایک صفحے پر ہیں۔

صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید بتایا کہ ذرائع نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ میر شکیل الرحمان کو گرفتار کیا جانے والا ہے، اس حوالے سے ہم نے میر شکیل کو آگاہ کردیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ جیو نیوز کے مالک کو کچھ صحافیوں کو نوکریوں سے نکالنے کا کہا گیا تھا، تاہم انہوں نے انکار کردیا تھا، ان صحافیوں میں انصار عباسی، سلیم صافی، اعزاز سید اور عمر چیمہ شامل تھے۔

دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے اور فاشسٹ حکمران اسے گرانے کے درپے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو 18 ماہ سے دبایا جارہاہے اور حکومت کے اس اقدام سے انتقام کی بو آرہی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نے مزید کہا کہ کسی زوال پزیر حکومت کا آخری حملہ میڈیا اور سیاسی مخالفین پر ہوتا ہے۔

سابق وزیر اعظم اور نون لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے بھی میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا ہاؤسز کے سربراہ کو گرفتار کر لیا گیا ایسے کون سے سوالات تھے جس کے جواب نیب کو نہیں ملے۔

 انہوں نے کہا کہ جیو اور جنگ نیب کے حقائق عوام کے سامنے رکھتے تھے ان پر پیمرا کے زریعے بھی دباو ڈالا گیا تھا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر قومی احتساب بیورو جھوٹا نہیں ہے تو ٹی وی کا کیمرہ لگائیں اور عوام کو دکھائیں کس نے کیا کرپشن کی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پیغام ہے جو بولے گا وہ اندر جائے گا، حکومت ہوش کے ناخن لے۔

ایم کیو ایم پاکستان نے جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کی ضرورت ہے، اس میں ذرائع ابلاغ کا بھی انتہائی اہم کردار ہے، بڑے میڈیا گروپ کے مالک کی 34 برس پرانے معاملے میں گرفتاری یقیناً پریشان کن امر ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان نے کہا کہ ہم آزادیٔ اظہار پر کامل یقین رکھتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کا فی الفور نوٹس لیتے ہوئے اس حوالے سے پیدا ہونیوالے تمام تر شبہات کو ختم کریں گے۔

Mir Shakilur Rehman

Tabool ads will show in this div