لاپتاافرادکاکیس آج نمٹائیں گے،پھرآپ جانیں اورآپکاکام،چیف جسٹس کےریمارکس

ویب ڈیسک:
اسلام آباد: لاپتا افراد کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان چاہیں تو معاملہ 24 گھنٹے میں حل ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی زیر صدارت لاپتا افراد سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کیس سے متعلق ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر کا کردار قابل تعریف ہے، انہوں نے حقائق تک رسائی حاصل کی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لاپتا افراد کا معاملہ انسانیت کے خلاف جرم گردانا جاتا ہے،جبری گمشدگی کو اقوام متحدہ نے بھی بین الاقوامی جرم قرار دیا ہے، لاپتہ افراد کو اٹھانے کا قانونی جواز ہو تو ہم آپ کے ساتھ ہیں، اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا ہے کیس آج ہی نمٹائیں گے،فیصلہ دے دیں گے پھر آپ جانیں اور آپ کا کام۔

چیف جسٹس نے کہا جو حکم دیا تھا اس کی تعمیل نہیں ہوئی،توقع تھی فیصلے پرعمل کریں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہم تو عدالتی فیصلوں پر من وعن عمل کرتے ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے من و عن نہیں، لیت و لعل کا لفظ استعمال ہونا چاہئے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا عدالتی حکم عدولی کی نیت نہیں ہے۔

جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے نیت اعمال سے ظاہر ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا جبری گمشدگی کو اقوام متحدہ نے بھی بین الاقوامی جرم قرار دیا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے لاپتہ افراد کا معاملہ انسانیت کے خلاف جرم گردانا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا 14 لاپتہ افراد چیمبر میں،باقی آج پیش کیے جانے تھے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جاں بحق ہونے والے 2 افراد کے لواحقین کو بند کمرے میں پیش کر سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا روزانہ بند کمرے میں سماعت نہیں کرسکتے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا لاپتہ افراد کے حوالے سے پارلیمنٹ اجلاس میں قانون سازی کی جائے گی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا 6 ماہ ہو گئے، قانون سازی میں اتنا وقت نہیں لگتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے وزیر اعظم چاہتے تو یہ معاملہ 24 گھنٹے میں حل ہو جاتا،آج لاپتہ افراد کے مقدمے کو نمٹا دیں گے،فیصلہ دے دیں گے،پھرآپ جانیں اور آپ کا کام،خواجہ آصف نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں امریکی وزیر دفاع سے ملاقات کی اجازت دی جائے جو انہیں دے دی گئی۔

سماعت کے دوران ایک موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قانون کاحوالہ دیتے وقت آرٹیکل10ذہن میں رکھیں گا، ،انتظامیہ آئینی ذمے داریاں پوری کرنےمیں ناکام رہتی ہے، اور پھر عدالت صرف اسی وقت مداخلت کرتی ہے۔ سیکریٹری دفاع عارج نذیر نے عدالت کو بتایا کہ آزادانہ زندگی گزارنے والے7افرا دبند کمرے میں پیش کرچکے ہیں،پکڑے گئے پانچ افراد بے گناہ ہیں، جب کہ دو گناہ گار پائے گئے، اور پانچ پر شہبہ ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو آج بتادیں گے ملک بھر میں کتنے لاپتہ افراد ہیں، وزیراعظم چاہیں تو معاملہ24گھنٹے میں حل ہوسکتا ہے۔ کیس کی سماعت جاری ہے۔  سماء

آج

gandhi

nikah

Tabool ads will show in this div