قومی اسمبلی نےزینب الرٹ بل 2020 منظور کرلیا

اطلاق ملک بھرپرہوگا
Mar 11, 2020
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/03/NA-Zainab-Bill-Passed-Isb-Pkg-11-03.mp4"][/video]

قومی اسمبلی نے زینب الرٹ بل 2020 منظور کرلیا ہے۔ سینیٹ کی جانب سے بل پہلے ہی منظور کیا جاچکا ہے۔

زینب الرٹ بل 2020 قومی اسمبلی میں کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ بدھ کو اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔وزیر انسانی حقوق شیریں مہرالنساء مزاری نے بل پیش کیا۔ متحدہ مجلس عمل کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی۔

مسلم لیگی رکن اسمبلی خواجہ آصف نے کہا کہ بل کا صرف اسلام آباد تک اطلاق نہیں ہونا چاہیئے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ہر سگنل پر ایک زینب نظر آتی ہے،بعض قانون سازیاں این جی اوز کیلئے کی جا رہی ہیں، قانون سازی ضرور کریں لیکن اس پر عملداری بھی ہونی چاہئے۔

شیریں مزاری نے کہا کہ بل کا اطلاق صرف اسلام آباد نہیں پورے ملک پر ہوگا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا تھا کہ بل میں کوئی ٹائپنگ کی غلطی ہو تو درست کی جا سکتی ہے۔

بل میں ملزمان کی سزاؤں کا تعين بھی کیا گیا ہے۔بل کے تحت پولیس اہلکار اطلاع پر فوری ایف آئی آر درج کرنے کا پابند ہوگا۔ متن میں یہ بھی درج ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم کی سزائیں، سزائے موت سے لے کر عمر قید اور یا پھر زیادہ سے زیادہ 14 سال اور کم سے کم سات سال قید کی سزا رکھی گئی ہے۔

بل کے تحت قومی کمیشن برائے حقوقِ بچگان کا نام تبدیل کرکے ’زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی‘ رکھا گیا ہے۔ بل کے مطابق کسی بھی بچے کے اغوا یا اس کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعہ کا مقدمہ درج ہونے کے 3 ماہ کے اندر اندر اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنا ہوگی۔ پولیس کو کسی بچے کی گمشدگی یا اغوا کے واقعہ کی رپورٹ درج ہونے کے 2 گھنٹوں کے اندر اس پر کارروائی کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔

ZAINAB ALERT BILL