ویناملک کی ماہرہ پرکڑی تنقید،خلیل الرحمان کا جواب

وینا کو ماہرہ سے ذاتی اختلاف ہے یا نظریاتی؟

سوشل میڈیا پرعورت مارچ کی حمایت ومخالفت کرنے والے افراد اپنے موقف کی وضاحت کر رہے ہیں، لیکن وینا ملک نے مارچ میں شریک اداکارہ ماہرہ خان کی تصویرشیئر کرتے ہوئے کچھ ایسا لکھ ڈالا جو نظریاتی اختلاف کے بجائے ذاتی مخاصمت ظاہرکرتا ہے۔

خواتین کے عالمی دن 8 مارچ کے موقع پر ماہرہ خان کراچی میں "عورت مارچ" میں شریک تھیں، ماہرہ نے اپنے پلے کارڈ پر " برتری نہیں ، برابری چاہیے " لکھ رکھا تھا۔

وینا ملک نے اسی پلے کارڈ کے ساتھ ماہرہ کی تصویر شیئرکرتے ہوئے نامناسب الفاظ کے ساتھ ٹویٹ کی۔

ذاتیات کےعلاوہ وینا نے نام لیے بغیراداکار فردوس جمال کے حوالے سے بھی ماہرہ کو تنقید کا نشانہ بناڈالا جن کی تنقید کا جواب ماہرہ نے انتہائی مناسب اندازمیں دیا تھا لیکن وینا نے اپنی ٹویٹ میں اس حوالے سے بھی غلط بیانی کرڈالی۔

وینا کی ٹویٹ پرتبصرہ کرنے والوں میں ڈرامہ اور فلم رائٹرخلیل الرحمان قمر بھی شامل تھے جنہوں نے انٹرٹینمنٹ پی کو دیے جانے والے انٹرویو کا ویڈیو کلپ شیئرکرتے ہوئے لکھا "میں نے ماہرہ خان کو بتایا تھا کہ فلم "پنجاب نہیں جاؤں گی " کیلئے آپ میری پہلی چوائس نہیں ہیں "۔

خلیل الرحمان نے الزام عائد کیا کہ میں نےماہرہ خان کو کاسٹ نہیں کیا تھا، اسی لیے وہ اب عورت مارچ کی حمایت کررہی ہیں۔

گوعورت مارچ میں شریک ماہرہ خان کے پلے کارڈ پرکوئی نامناسب نعرہ درج تھا نہ ہی انہوں نے آج تک اس حوالے سے کوئی ایسا بیان دیا، البتہ ماروی سرمد کے ساتھ خلیل الرحمان قمر کے حالیہ تنازع کے حوالے سے ماہرہ کی شدید مذمت سامنے آئی تھی۔

ماہرہ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا " یہ وہی آدمی ہے جس نے ٹی وی پرعورتوں کو برا بھلا کہا ، کس وجہ سے اسے ایک کے بعد ایک پراجیکٹ دیا جاتا ہے؟ ۔ اس سوچ کو برقرار رکھنے کیلئے ہم بھی اتنے ہی قصوروار ہیں "۔

فردوس جمال اورماہرہ خان کا تنازع

گزشتہ سال کے وسط میں نجی ٹی وی کے مارننگ شومیں شریک فردوس جمال کا کہنا تھا کہ ماہرہ خان ایک عام سی ماڈل ہیں، ان کی عمرایسی نہیں کہ وہ ہیروئن کا کردارادا کریں ۔ اس عمرمیں ہیروئن کے بجائے ماں کا کردارادا کرناچاہیئے، میری بات اچھی لگے یا بری لیکن ماہرہ خان ہیروئن نہیں ہیں۔

جواب میں ماہرہ خان نے اس انداز فکر کوعورت کو ڈراؤنی سوچ سمجھنے والا مائنڈ سیٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا نہیں ہے۔ عورت خوبصورت اور بااختیار ہے۔ انسٹا گرام پر اپنے ہاتھ سے لکھی تحریر کے ذریعے تنقید کا جواب دیتے ہوئے ماہرہ کا کہنا تھا کہ بطور ایک آرٹسٹ مجھے اپنی انڈسٹری پرفخر ہے۔ سینیئرز کی شکر گزار ہوں کہ وہ مجھ جیسے اور بہت سے دوسرے لوگوں کیلئے راستے ہموار کرتے ہیں۔ اپنے اس سفر میں مجھے خود پر بھی فخر ہے، میں نے وہ کیا جو مجھے ٹھیک لگا اور کبھی اس چیز سے ہار نہیں مانی کہ دوسروں کی نظر میں میرے لیے کیا صحیح ہے۔ اور انشاء اللہ میں یہ جاری رکھوں گی۔

ماہرہ نے تنقید کے جواب میں اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید لکھا تھا کہ نفرت سے بھری اس دنیا میں پیار کا انتخاب کریں۔ لوگوں کی رائے کو برداشت کرنا سیکھیں اور اپنی لڑائی اس مائنڈ سیٹ کے خلاف لڑیں جو کامیاب عورت کو ایک ڈراؤنی سوچ سمجھتا ہے۔ نہیں ، ایسا نہیں ہے۔ عورت خوبصورت اور بااختیار ہے۔ ایک دوسرے کے پیچھے پڑنا چھوڑ دیں تا کہ یہ انڈسٹری اور ملک آگے بڑھ سکے۔

KHALIL UR REHMAN QAMAR

Tabool ads will show in this div