عالمی بازار میں خام تيل کی قيمت ميں 27فيصد کمی

تاریخ میں پہلی بار ایک دن میں اتنی کمی ہوئی
Mar 09, 2020
فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی
[caption id="attachment_1868782" align="alignnone" width="826"] فوٹو: اے ایف پی[/caption]

عالمی بازار میں تاریخ میں پہلی بار ایک دن میں خام تيل کی قيمت ميں 27 فيصد کمی ہوگئی جبکہ خام تیل سستا ہونے سے پاکستان کا سالانہ درآمدی تیل کا بل بھی 5ارب ڈالر کم ہوگا۔

سعودی عرب کی جانب سے روس کےخلاف تيل کی قيمتوں پر اعلان جنگ سے سن 1991 کے بعد خام تيل کی عالمی قيمتوں کو شديد دھچکا پہنچا ہے۔ کرونا وائرس سے تيل کی منڈی شديد متاثر ہے اور اس صورتحال ميں روس نے اوپيک سے تعاون نہيں کيا جس پر سعودی عرب نے قيمتيں گرا ديں۔

امریکی خام تیل 27 فیصد گراوٹ کے بعد 30 ڈالر فی بیرل ہوگیا جبکہ لندن برینٹ آئل 20 فیصد کمی سے 35 ڈالر فی بیرل تک گرچکا ہے۔

جنوری 2020 سے اب تک عالمی بازار میں خام تیل 50 فیصد سستا ہوا جبکہ اسی دوران خام تیل 70 ڈالر گر کر 2016 کی کم سطح 30 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔

معاشی ماہر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان کےلیے بڑی خوشخبری ہے کیونکہ خام تیل سستا ہونے سے پاکستان کے سالانہ درآمدی تیل کے بل میں بھی 5ارب ڈالر کمی ہوگی۔

معاشی ماہر کے مطابق خام تیل کی کمی کا فائدہ پاکستان منتقل ہونے سے مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی ہوگی اور پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے سے ہر شعبے کی پیداوار لاگت کم ہوگی۔

تيل کی قيمتيں گرنے سے ايشيا کی تمام اسٹاک مارکيٹ گرگئیں۔ جاپان ميں نکی انڈيکس 6 اعشاريہ ايک فيصد گر گيا، شنگھائی کمپوزٹ2فيصد اور ہانگ کانگ ہينگ سينگ انڈيکس 3 اعشاريہ 7 فيصد نيچے گيا ہے۔

آسٹريليا ميں اے ايس ايکس ميں 6 فيصد تک نيچے چلا گيا۔ چين کی برآمدات ميں بھی سرد بازاری واقع ہوئی ہے جس نے سرمايہ کاروں کو متاثر کيا ہے۔

Tabool ads will show in this div