گولیمارعمارت گرنےکامعاملہ:اموات 26 ہوگئیں

ایک لاش کو موبایل اور بٹوے سے پہنچانا گیا

کراچی کے علاقے گولیمار میں 5 منزل عمارت گرنے والی عمارت کے ملبے سے مزید 9 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جس کے بعد اموات کی تعداد26 ہوگئی۔

کراچی کے علاقے گولیمار میں 5 مارچ جمعرات کو 80 گز پر بنی 5 منزلہ عمارت کے گرنے کا واقعہ پیش آیا۔ یہ عمارت 4 سے 5 سال قبل تعمیر کی گئی تھی اور 10 فلیٹس پر مشتمل تھی۔

ابتدائی طور پر اندوہناک حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 9 تھی، جو اب بڑھ کر 26 تک جا پہنچی ہے۔ ہفتہ کے روز بھی عمارت کے گرنے والے ملبے سے مزید 9 افراد کی لاشوں کو نکالا گیا۔ جس میں خاتون بھی شامل ہیں۔ ایک خاتون کی شناخت ڈاکٹر غزالہ کے نام سے کی گئی ہے۔

لاشوں کی شناخت سفیان، سہيل، محمد علی، طارق علی اور عامر علی کے ناموں سے کی گئی ہے، جب کہ خاتون کی لاش شناخت کے ليے عباسی اسپتال منتقل کردی گئی۔ لوگوں کے مطابق ملبے ميں اب بھی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ سفيان کے بھائی کا کہنا ہے کہ مرحوم کی شناخت موبائل اور والٹ سے کی گئی۔ اہل خانہ کے مطابق 25 سالہ سفیان حادثے کے وقت عمارت کی تیسری منزل پر تھا۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز بڑے پتھروں کے نیچے سے لوگوں کی آوازیں آرہی تھیں، جو اب خاموش ہوچکی ہیں۔ گزشتہ روز ہفتہ کو قدرت نے معجزہ دکھايا اور نوجوان جہانزيب کو ملبے سے دو روز گزرنے کے بعد زندہ سلامت نکالا گيا۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ريسکيو آپريشن ميں سست روی دکھائی جا رہی ہے، جب کہ بلڈر کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب امير جماعت اسلامی سراج الحق نے صدر اور وزيراعظم سے نوٹس لينے اور لواحقين کو معاوضہ دينے کا مطالبہ کر ديا۔

BUILDING COLLAPSED

GOLIMAR

Tabool ads will show in this div