شہریوں کو لاپتہ کرنا سنگین جرم ہے، میرے پاس اب بھی 60 گھنٹے ہیں، چیف جسٹس

اسٹاف رپورٹ


اسلام آباد : چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ شہریوں کو لاپتہ کرنا جرم نہیں بلکہ سنگین جرم ہے، جسٹس افتخار چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد معاملہ نمٹ جائے گا، چیف جسٹس نے کہا ان کے پاس ابھی 60 گھنٹے باقی ہیں جو 60 سال کے برابر ہیں، ایڈیشنل سیکریٹری دفاع کہتے ہیں مزید 2 لاپتہ افراد کو کل پیش کردیا جائے گا، باقی کیلئے وقت دیا جائے، کیس کی سماعت کل پھر ہوگی۔


سپریم کورٹ میں 35 لاپتہ افراد کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی شہری کو لاپتہ نہیں کیا جاسکتا، یہ جرم نہیں بلکہ سنگین جرم ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ تاثرغلط ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعدمعاملہ نمٹ جائے گا، میرے پاس اب بھی 60 گھنٹے ہیں، یہ گھنٹے 60 سال کے برابر ہیں۔


ایڈیشنل سیکریٹری دفاع عارف نذیر کا کہنا تھا کہ کل مزید 2 افراد کو عدالت میں پیش کردیا جائے گا، سب لوگوں کو ڈھونڈ رہے ہیں، مزید وقت  دیا جائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جب وزیراعظم کے علم میں یہ معاملہ ہے تو پھر کیا رکاوٹ ہے۔


سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے وزارت دفاع کی تحریری رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ لوگوں کو غائب کرنے کا کیا قانونی جواز ہے، قومی مفاد دنیا بھر میں عزیز رکھا جاتا ہے، لیکن اس کی بنیاد پر غیر قانونی کام نہیں ہوسکتا۔


اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالتی معاونت کیلئے کچھ وقت درکار ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئین کے تحت وزیراعظم ہر شخص کی زندگی کے تحفظ کے ذمے دار ہیں، اگر وہ چاہیں تو معاملہ 24 گھنٹوں میں حل کرسکتے ہیں۔ سماء

چیف

کو

Long march

save

woes

hc

Tabool ads will show in this div